اصحاب احمد (جلد 6) — Page 42
42 بھی قادیان ہجرت کر آئے۔قاضی محمد عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں: ”حضرت والد صاحب ۱۹۰۱ء میں مع بھا وجہ صاحبہ (اہلیہ محترمہ مرحومہ حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب) اور ان کے بیٹے عزیز قاضی بشیر احمد صاحب کے قادیان ہجرت کر آئے۔میں اس وقت بورڈنگ میں تھا۔بھا وجہ صاحبہ مرحومہ کی رہائیش اس وقت الدار کے نچلے حصہ کے اس کمرہ میں رہی جو ڈیوڑھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب ہے۔میں بھی اس میں پہنچ جایا کرتا تھا۔عزیز بشیر احمد اس وقت چھوٹا تھا۔اس کو کھلانے کیلئے باہر لے آتا تھا۔شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ڈیوڑھی کے آگے دربان کے طور پر حضرت والد صاحب رہتے تھے۔اور حضور انور کی اجازت سے جلد سازی کا کام بھی شروع کر دیا۔کیونکہ فارغ رہنا پسند نہ کرتے تھے اور جلد سازی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی کتب کو مجلد کرنے کا کام اس جگہ میں جوڈیوڑھی کے آگے تھی۔کرتے تھے۔رسالہ الھدی کی بہت ساری جلدیں جو اس وقت مصر میں بھجوائی گئی تھیں۔ان کی جلد بندی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ارشاد کی تعمیل میں آپ نے ہی کی تھی۔بعد میں جب اخی المکرم (قاضی عبد الرحیم صاحب کا جموں سے آنے کا انتظام ہوا تو ایک مکان جو مائی جھیوری کے نام سے مشہور تھا۔جوڈ پٹی والے مکان کے آگے تھا۔* اس لئے اس میں رہائش کا انتظام ہو گیا۔کیونکہ الزار میں مہمانوں کی کثرت ہوگئی تھی۔مائی جھیوری والے مکان کے ایک حصہ میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کچھ عرصہ تک رہائش پذیر ر ہے۔اور ایک حصہ میں ہم تھے۔یہ مکان بعد میں گرایا جا کر قصر خلافت کی زمین میں شامل ہوا تھا۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے مکان کے غربی دروازے کے آگے گلی میں یہ مکان تھا۔عزیز قاضی عبدالسلام صاحب کی پیدائش بھی اسی مکان میں ہوئی تھی۔محترمہ ہمشیرہ امتہ الرحمن صاحبہ مرحومہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت * اس ڈپٹی کا نام پنڈت شنکر داس تھا جو غالبا جموں میں کوئی سرکاری افسر تھا۔والدہ محترمہ بیان کرتی ہیں مسجد اقصی کے ساتھ جو بڑی حویلی ہے۔یہ اس نے خاص شرارت سے بہت اونچی بنوائی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کی بے پردگی ہو۔مگر خدا تعالیٰ نے ان کو نیست و نابود کر دیا اس ڈپٹی کی جوان اور نہایت خوبصورت لڑکی طاعون کا شکار ہوگئی تو اس کی ماں نہایت دلدوز آواز میں بین کرتی تھی۔اب اس مکان میں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں جن میں اشاعت احمدیت کے کام سرانجام پاتے ہیں۔بیان قاضی عبدالسلام صاحب۔