اصحاب احمد (جلد 6) — Page 88
88 معلوم ہوسکتا ہے۔لیکن اس میں شک نہیں کہ جہاں تک ظاہر حالات ان کے دیکھے گئے ہیں۔(اور وہ ایک مدت سے یہاں رہنے والے ہیں) ان کی طبیعت میں بڑی سعادت اور رشد پایا گیا ہے اور وہ ایک شریف اور صالح نو جوان ہیں۔واللہ حسیبہ قادیان کو انہوں نے باہر کی ملازمت پر ترجیح دے کر اختیار کیا ہے۔باہر ان کو اس وقت یہاں سے اچھی ملازمت اور بہت کچھ ترقی کی امید میں ملتی تھیں۔مگر انہوں نے ایک قلیل تنخواہ پر اسی جگہ رہنے کو ترجیح دی ہے۔آپ نے جس ہمت اور مردانگی کے ساتھ اپنی قوم سے قطع تعلق کر کے پہلے اس نئی قوم میں تعلق پیدا کیا ہے۔اسی کی بناء پر میں یہ درخواست قاضی صاحب موصوف کی طرف سے آپ کی خدمت میں دوسری لڑکی کے رشتہ کے لئے کرتا ہوں۔چونکہ والدین کو ان معاملات میں بہت احتیاط سے اور غور وفکر کے بعد کام لینا پڑتا ہے۔اس لئے میں یہ بھی ساتھ ہی عرض کرتا ہوں کہ آپ بطور خود بھی ان کے حالات دریافت فرمالیں۔اور اس معاملہ میں بڑی آزادی کے ساتھ کام کریں۔میری طرف سے محض یہ درخواست ہے۔کیونکہ قاضی صاحب کے نہ تو والد صاحب زندہ ہیں اور نہ ہی ان کے بڑے بھائی صاحب اس جگہ ہیں۔اور انہوں نے اس جگہ ہمارے بچوں کی طرح پرورش پائی ہے۔اس لئے میں ہی یہ درخواست بھی آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔البتہ اتنا اور عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب سے بھی اس کا تذکرہ آیا تھا۔وہ بھی میری طرح اس تعلق کو اگر آپ اسے منظور فرماویں۔فریقین کیلئے بہت مبارک سمجھتے ہیں۔ایک بات اور ہے۔حضرت اقدس ان معاملات میں حکماً کارروائی نہیں کرتے۔ہاں اگر پہلے فریقین کی رضامندی ہو جاوے تو پھر معاملہ حضور کی خدمت میں پیش کرنا مناسب ہوگا۔اگر آپ بطور خود حضرت اقدس سے اجازت حاصل کرنا چاہیں تو آپ کو ہر طرح سے اختیار ہے۔ورنہ آپ کی رضامندی کی اطلاع ہونے پر میں حضور کی خدمت میں عرض کر دوں گا۔اور جو کچھ حضور کا ارشاد ہوگا اس سے آپ کو اطلاع دے دوں گا۔والسلام خاکسار محمد علی از قادیان ۱۰ فروری کے قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ : خاکسار کی اہلیہ اول کا نام کلثوم با نو بنت سید عزیز الرحمن صاحب ہے۔محترم سید صاحب