اصحاب احمد (جلد 6) — Page 64
64 آیا۔سنتے تھے کہ کئی سو روپے بیت اللہ جانے پر خرچ ہوتا ہے۔لیکن کیا وجہ ہے کہ صرف چھ روپے کرایہ دیکر یہاں آ گیا ہوں۔۵۔۱۰ منٹ سوچنے کے بعد سمجھتا ہوں کہ یہ قائم مقام بیت اللہ ہندوستان میں ہے۔بیدار ہونے پر جب وہ نقشہ سامنے آیا تو وہ قادیان ہی تھا۔اس رویا میں مجھے دکھایا گیا۔(۱)۔ایک وقت استغفار کرنے کا تم پر آئے گا۔(۲) قادیان بوجہ بارڈر پر نہ آنے کے بم باری سے محفوظ رہے گا۔کیونکہ اگر پاکستان میں آتا تو بارڈر پر ہوتا۔(۳) ایک وقت آئے گا کہ تمہیں اس شہر میں بسنے کی خواہش ہوگی اور تم اس سے باہر ہوگے۔(۴)۔بمباری نہ ہونے کی وجہ سے پر امن ہوگا۔(۵)۔تم چھ روپے کرایہ کی مسافت پر یہاں سے دور پہنچ جاؤ گے۔چنانچہ میں اب راولپنڈی میں ہوں۔قادیان سے راولپنڈی آ گیا۔بڑی کوشش کی کہ وہاں سے کہیں اور جگہ چلا جاؤں۔لیکن کامیابی نہ ہوئی نمبر 4۔ایک وقت ایسا آئے گا کہ قادیان ہندوستان میں آ جائے گا۔میں نے یہ خواب اس لئے لکھی ہے کہ میری مشکل کے لئے دعا کریں اور کروائیں اگر قادیان۔ہوتا دشمن قبر اکھاڑنے سے دریغ نہ کرتے۔چنانچہ ۱۹۲۳ء میں مولوی ثناء اللہ امرتسری ) معہ پچاس ہزار افراد کے اس بد ارادہ سے قادیان میں آیا تھا۔حضور کی قبر کی حفاظت میرے سپرد تھی۔میں نے اس پر چار دیواری بنائی۔اور دو چھت شھتیروں کے ڈال کر اس کو محفوظ کیا۔تا کہ دشمن یکدم حملہ نہ کرسکیں۔اس وقت تو گورنمنٹ کا رعب تھا۔لیکن اب تو گورنمنٹ اپنی ہے۔وہ اس وقت من مانی کاروائی کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام حضور کی نسبت فرمایا تھا کہ رسول اللہ پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں چنانچہ اب وہ پناہ گزین ہیں۔اس وقت وہ دشمنان کی رسائی اور دست برد سے محفوظ ہیں۔بابا کھڑک سنگھ نے پچاس ہزار کے مجمع کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔اس وقت گورنمنٹ برطانیہ روک تھی۔پھر جماعت احمدیہ کی موجودگی ان کے اس ارادہ کی تکمیل میں حائل تھی۔خدا تعالیٰ نے یہ دونوں روکیں دور کر دیں اور قادیان کو ان کی جھولی میں ڈال دیا۔تا کہ وہ اپنا ارادہ بلا روک آسانی سے پورا کر لیں۔لیکن جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کر رہا ہو۔اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔۔میری تحریر احباب کو سناد میں تاکہ دعاء کی تحریک ہو۔دوسری عرض ہے کہ ہم نو