اصحاب احمد (جلد 6) — Page 60
60 آج ایک کارڈ بھائی صاحب (قاضی نظیر حسن۔ناقل ) نے جموں سے روانہ کیا کہ اپنے ٹیفکیٹ روانہ کر دو تا کہ افسر نہر کو جو بھی آیا ہے سفارش کی جائے۔میں چاہتا ہوں کہ تمہاری کوئی اچھی صورت بن جائے۔یہ کیا ہے سات روپے کی نوکری؟ جزاهم الله -لیکن میرے خیال میں یہ نوکری اور جگہ کے پچاس سے بہتر ہے“ لیکن اس اسامی پر ابھی سوا سال گذرا تھا کہ آپ کی ملازمت جنوری ۱۹۰۳ء میں تخفیف میں آ گئی۔چنانچہ آپ کی اہلیہ محترمہ سناتی تھیں کہ میں ریویو آف ریلیجز کی جسے اس وقت میگزین کہتے تھے۔فرمہ شکنی کرتی تھی۔اس کی کٹائی سے جو کتر نیں حاصل ہوتیں انہیں ایندھن کے بجائے کھانا تیار کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا۔اسی دوران میں آپ کے ہاں دوسرے فرزند قاضی عبدالسلام صاحب کی پیدائش ہوئی۔ڈائیری بابت ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء میں مرقوم ہے: آج خدا کے فضل و کرم سے اس عاجز کے ہاں ایک فرزند نرینہ پیدا ہوا۔خدا اس کو سعید 66 کرے۔اور اس کی والدہ کو صحت یاب کرے۔آمین۔اور تیرا غلام بنے۔آمین۔“ پہلے ہی مشاہرہ قلیل تھا۔اب اس ذریعہ آمد کے مسدود ہونے پر بھی تنگی ترشی اور صبر کرتے ایک سال بیت گیا۔تو قاضی صاحب کا بیان ہے کہ والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملازمت کیلئے میرے باہر جانے کے متعلق دریافت کیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اچھی ملازمت ملے تو چلے جانا چاہئے۔اس سے ہجرت میں کوئی نقص نہیں آتا۔(اس وقت دو استاد ماسٹر عبدالرؤف صاحب بھیروی اور شیخ محمد نصیب صاحب ( حال بمقام خانقاہ ڈوگراں۔پاکستان۔مؤلف ) بھی تخفیف میں آگئے تھے۔بالآ خر۱۳ جنوری ۱۹۰۴ء کو بادل ناخواستہ تیرہ روپے کا قلیل زاد سفر لیکر آپ جموں کیلئے روانہ ہوئے۔ان دنوں کا کرایہ یکہ قادیان تا بٹالہ سات آنہ اور کرایہ ریل از بٹالہ تالا ہور پونے گیارہ آنہ اور اجرت مزدور برائے اسباب اٹھوائی ڈیڑھ آ نہ لکھا ہے۔آپ لکھتے ہیں: ” بھائی صاحب قاضی نظیر حسن صاحب کے متواتر خط اس مضمون کے میرے نام پہنچے کہ جموں جلد پہنچ جاؤ۔یہاں معقول روز گار بن جائے گا۔اس پر حضرت صاحب سے اجازت حاصل کرلی اور ۱۳ جنوری ۱۹۰۴ء کو بوقت صبح یکہ پر سوار ہوکر بوقت شام لاہور پہنچا صبح رخصت ہو کر جموں پہنچا جموں پہنچا بھائی صاحب کے اپنے۔دفتر میں بھی ایک آسامی تھی۔مگر چونکہ میں بخار کی وجہ سے بہت کمزور ہو گیا تھا۔اس واسطے