اصحاب احمد (جلد 6) — Page 53
53 * ** اس وقت مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی عمر ( بحساب سمسی ۶ ا دن کم ۶۱ سال کی تھی۔۔افسوس صد افسوس کہ اس وقت برادرم عبد الرحیم صاحب قادیان میں موجود نہ تھے اور جموں تھے۔دوروز کے بعد یعنی سے امئی کو جموں سے آئے۔(آگے بیماری اور علاج کی تفصیل لکھی ہے اور آخر پر لکھا ہے کہ ) غرض ۱۵ مئی ۱۹۰۹ء کی صبح سے آپ کی رُوح پرواز ہونے لگی۔دو پہر کے وقت نبض بالکل نہ رہی۔اور ناخن سیاہ فام ہو گئے۔اس وقت سے تھوڑے سے پہلے وصیت شروع کی۔جو لوگ آتے ان کو اپنے کلمہء توحید کا گواہ بناتے اور مولوی صاحب ( حضرت مولوی نورالدین صاحب مراد ہوں گے۔مولف ) کو فرمایا کہ میرا تجہیز و تکفین خود کرنا۔۔( ورثاء کو کہا۔مؤلف ) حصہ جائیداد شرعی ہو اور بہنوں کو حصہ دینا۔میری روٹی با قاعدہ دیتے رہنا۔اور صدقہ کرنا اور میری ۱۲ یا ۱۵ نمازیں قضاء ہوئی ہیں۔ان کو پورا کرنا۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سچا ماننا۔اور وہ میرے بعد سے تم پر نظر شفقت کریں گے اور ان کا دامن نہ چھوڑنا۔اور مجھے فرمایا۔انٹرنس کے بعد ڈاکٹری کی تعلیم شروع کرنا۔اور مولوی صاحب سے حدیث پڑھنا۔اور شیخ غلام احمد صاحب* اور صالحہ بی بی اور ہمشیرہ اور عاجز سب سے معافی مانگی اور کلمہء توحید پڑھتے ہوئے شہید ہوگئے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔اس سے پہلے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کیلئے کئی بار التجائیں کیں اور تین دن پہلے انہیں الہام ہوا۔وہ بے چارہ فوت ہو گیا ہے“ ** شیخ غلام احمد صاحب واعظ ( مدفون بہشتی مقبرہ) جو ان دنوں قادیان میں شیر فروش تھے۔زیہ الہام سلسلہ کے اخبارات میں حضرت اقدس کے عہد مبارک میں شائع نہیں ہوا۔اس کا اولین تحریری ریکارڈ مندرجہ بالا ہے۔جو خاکسار پہلی دفعہ شائع کر رہا ہے۔اس کی ایک تصدیق اور بھی درج کرتا ہوں۔محترم ڈاکٹر عطر الدین صاحب درویش کی بیعت ۱۸۹۹ء کی ہے۔اور وہ قاضی محمد عبد اللہ صاحب کے ہمزلف بھی ہیں۔ان سے خاکسار مولف نے بوقت تالیف کتاب ہذا دریافت کیا کہ حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کے متعلق کوئی قابل ذکر بات بیان کریں۔انہوں نے از خود مندرجہ بالا الہام بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت اقدس اس وقت بمقدمہ کرم دین گورداسپور میں تھے۔اور میں بھی حضور کی خدمت میں گورداسپور میں تھا۔اس وقت کا حضور سے سنا ہوا یہ الہام مجھے اب تک یاد ہے : تذکرہ طبع ثانی (ص۷۸۲) میں یہ الہام الحکم مورخہ ۲۱۱۴ فروری ۱۹۳۹ء کے حوالہ سے درج ہوا ہے۔الحکم میں یہ ذکر ہے کہ نومبر ۱۹۳۳ء میں حضرت مولوی شیر علی صاحب نے ذیل کی روایت بیان کی تھی۔جو ۱۲ دسمبر کو مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتا لوٹی نے سرگودھا میں بیان کی۔اور اس وقت به ثبت شہادت ضبط تحریر میں لائی گئی۔(باقی اگلے صفحہ پر )