اصحاب احمد (جلد 6) — Page 52
52 نے ہمیں بتایا تھا کہ حضرت دادا صاحب کے ایام مرض الموت میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور به سلسلہ پیشی مقدمہ تشریف لے جانے والے تھے تو دادا صاحب نے خواہش کی کہ حضرت صاحب سے عرض کرو کہ میرا ملنے کو بہت دل چاہتا ہے۔اس لئے تشریف لے جاتے ہوئے اس طرف سے گذر جائیں تا کہ مجھے کھڑکی میں سے دیکھنے یا ملاقات کا موقعہ مل جائے۔مگر پھر روک دیا کہ حضور علیہ السلام کو تکلیف ہوگی۔پھر کہتے۔پھر روک دیتے۔آخر یہی کہا کہ تکلیف نہ دی جائے۔جب گورداسپور سے واپسی پر حضور علیہ السلام کو اس بات کا علم ہوا۔ہماری پھوپھی صاحبہ نے ( جو حضور کی اہل بیت کی خادمہ ہونے کا شرف رکھتی تھیں۔) حضور کو بتایا تو حضور نے سخت بے چینی اور اضطراب کا اظہار فرمایا اور اٹھ کر ٹہلنے لگے۔اور بار بار فرماتے امتہ الرحمن ! تم نے مجھے کیوں نہ قاضی صاحب کا یہ پیغام دیا۔میں ضرور روانہ ہونے سے پہلے ان کومل جاتا۔قاضی عبد الرحیم صاحب بیان کرتے تھے کہ وفات سے قبل حضرت قاضی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے اپنی اولا دکو مسیح کے دروازے پر لا کر چھوڑا۔یہ میری خواہش تھی اور کوئی خواہش باقی نہیں۔اگر حضرت صاحب ملتے تو ان سے دو باتیں کرنی تھیں۔آپ کا جنازہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھا تھا۔بہشتی مقبرہ کا قیام ایک سال بعد عمل میں آیا۔آپ کو روڑی نام قبرستان میں جو باب الانوار میں ڈھاب کے شمال مشرق کی طرف ہے۔دفن کیا گیا۔آپ کی قبر کے ارد گر دحد بندی کے طور پر پرانی چھوٹی اینٹیں لگی ہوئی ہیں۔وہاں جو پرانی چار دیواری ابھی تک کھڑی ہے۔اس کے بالکل متصل جنوب میں یہ قبر ہے۔محترم قاضی عبدالسلام صاحب نے جب آپ چند سال قبل قادیان تشریف لائے تھے۔مجھے دکھائی تھی۔ابھی تک محفوظ ہے۔حالات سازگار ہونے پر وہاں کتبہ لگوا دیا جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔آپ کی وفات پر آپ کے روز نامچہ میں قاضی عبد اللہ صاحب نے ذیل کا اندراج کیا تھا: تاریخ وفات حضرت ابوی صاحب مرحوم و مغفور رحمۃ اللہ علیہ ۱۵ مئی ۱۹۰۳ء بشب دوشنبه بعد اذان مغرب۔اس وقت عاجز راقم اور ہمشیرہ فاطمہ بی بی اور بھا وجہ صاحبہ صالحہ بی بی اور بشیر احمد عبد السلام (یعنی دونوں پوتے۔ناقل ) موجود تھے کہ اس جہاں سے بغیر تکلیف بے ہوشی کے کلمہ توحید پڑھتے ہوئے اور عمدہ عمدہ نصائح کرتے ہوئے ایک ماہ بیمار رہ کر بعارضہ پیش ہچکی۔قے۔اس جہاں سے عالم بقا کو رحلت فرما گئے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔اللهم اغفر له وارحمه و ادخله فى رحمتک انک انت ارحم الراحمين۔