اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 47 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 47

47 ہیں۔(27)۔پھر مزید تیرہ سال بعد ۱۹۰۶ء میں وحی الہی ہوئی۔اس میں مذکورہ پہلی وحی سے کچھ الفاظ زیادہ ہیں۔وَلَا تَسْتَمُ مِنَ النَّاسِ کے بعد وَوَسِعُ مَكَانَكَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَرَبِّهِمْ۔وَاتْلُ عَلَيْهِمْ مَا أُوحِيَ اَلِيْكَ مِنْ رَّبِّكَ کے الفاظ بھی ہیں۔(28)۔تکرار وحی سے ان کا مقام رفیع بیان کیا گیا ہے تا کہ ایک تو دوسروں کو بھی ہجرت کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی تحریک ہو۔دوسرے اصحاب الصفہ کے ایمان باللہ۔تو کل علی اللہ۔استقامت رزق کفاف اور تنگی معیشت پر صبر جیسے اوصاف حمیدہ میں مزید ترقی اور جلا پیدا ہو۔اور اللہ تعالیٰ کی رضاء اور ثواب آخرت کی خاطر بہ صد جذبات تشکر و امتنان - اقارب کی طعن و تشنیع۔اغیار کی انگشت نمائی اور ایذا دہی سبھی کچھ برداشت کرتے رہیں۔علاوہ ازیں بیت اللہ شریف یا شائید دار امسیح کے متعلق ہی یہ الہام ہوا۔“ الْبَيْتُ الْمُحَوَّفَةٌ مُلِئَتْ مِنْ بَرَكَاتٍ“ (29) یعنی وہ گھر جولوگوں کے ہجوم سے گھرا ہوا ہے۔برکتوں سے بھرا ہوا ہے۔یہ بھی الہام ہے کہ "وَكُحل هَالِكَ إِلَّا مَنْ قَعَدَ فِي سَفِينَتِي اعْزَازٌ - (30) حضرت مسیح موعود نے دار مسیح کو کشتی نوح کا مماثل قرار دیا ہے۔گویا حضرت قاضی صاحب اور دیگر اصحاب و جن کو اس الدار میں قیام کا موقعہ ملتا تھا۔یہ امر ان کے لئے باعث اعزاز واکرام تھا۔وہ حضور کے قرب۔معیت اور برکات سے حصہ وافر پاتے تھے۔اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور آنحضرت صلعم سے عشق : احکام شریعت کی پابندی اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و اخلاص قاضی صاحب کے روز نامچہ میں ہر قسم کے اندراجات سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہوتا ہے۔سمہ ۱۹۵۶ کے شروع میں حساب آمد و خرچ لکھنے سے پہلے لکھا ہے: لکھا ہے: يا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک ،، اپنے فرزند فیض رحیم مرحوم کو مکتب میں تعلیم قرآن کیلئے بھیجا تو روزنامچہ میں ان الفاظ میں نوٹ الحمد لله و المنته که امروز تاریخ۔۔۔ماه ربیع الاول ۱۳۰۱ھ بروز دوشنبه که روز تولد سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم و روز معراج آں خلاصہ موجودات است صلی اللہ علیہ