اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 46 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 46

46 قادیان میں ہند و بازار میں ایک ادنی سی دودھ کی دکان تھی۔دودھ نہ بکتا تو دہی میں اور پھر دہی سے کسی اور شئی میں دکاندار تبدیل کرتا۔ادنی سا کپڑا بھی بمشکل دستیاب ہو سکتا۔آٹا لنگر خانہ کیلئے دھار یوال سے جو سات آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے لایا جاتا۔معمولی ضروریات بھی کسی دکان سے حاصل نہ ہو سکتی تھیں۔قریب ترین شہر بٹالہ تھا۔جو بارہ میل دور تھا۔اس زمانہ کی سواری یکہ تھا۔جس پر سوار ہو کر گڑھوں کی کثرت والی کچی سڑک پر ہچکولے کھانے اور گرد پھانکنی پڑتی تھی۔لوگ جاہل اور اجڈ تھے۔علاقہ پسماندہ تھا ایسی صورت میں یہاں ذرائع آمد بھلا ہو ہی کیونکر سکتے تھے۔تمام مہاجرین نہایت تقشف کی زندگی بسر کر رہے تھے۔اور قادیان کا علاقہ وادٍ غیر ذی زرع“ سے مشابہت تام رکھتا تھا۔وہ کسی دینوی لالچ کے زیر اثر کھنے نہیں آتے تھے۔بلکہ مہاجر فی سبیل اللہ بن کرمخلصین لہ الدین کی حالت پیدا کر کے دنیا و مافیھا سے منہ موڑ کر اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے ناتا جوڑ کر ابتغاء لوجہ اللہ دیار حبیب میں دھونی رما کر بیٹھ جاتے تھے۔قادیان میں حالت وحی الہی ضَاقَتِ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ رَبِّ إِنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرُ (25)۔والی تھی۔حضرت مسیح موعود کے معاندا قارب اور ان کے زیر اثر غیر مسلموں سے بے حد اذیت ذہنی و جسمانی برداشت کرنی پڑتی تھی۔قرآن مجید اور حضور کی وحی کے مطابق گزرعٍ أَخْرَجَ شطاه والی حالت تھی مہاجرین صبر ورضاء کے مجسمے تھے۔ان کا منتہائے مقصود حصول رضاء الہی تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکات سے بھر پور اور انوار سے معمور مجالس میں شامل ہوکر اکتساب نور کرنا۔آپ کی زبان مبارک سے تازہ بتازہ وحی الہی سننا۔تائید و نصرت الہی کے نشانات دیکھنا ان کی روح کی غذا تھی۔حضور کی علالت و سفر کے ایام میں وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپتے تھے۔ایسے ہی مخلصین کو وحی الہی نے اصحاب الصفہ قرار دیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب الصفہ سے مماثل گردانا تھا اور ان سے حسن سلوک کی تلقین آغاز بیعت سے بھی سات سال قبل کی تھی۔چنانچہ ۱۸۸۲ء کی وحی میں ہے: ولا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمُ مِنَ النَّاسِ أَصْحَابُ الصُفَّةِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا أَصْحَابُ الصُفَّةِ۔تَرَى أَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ يُصَلُّونَ عَلَيْكَ۔رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِي لِلْإِيمَان “ (26) گیارہ سال بعد ۱۸۹۳ء میں پھر اس بارہ میں وحی الہی ہوئی۔اس میں اصحاب الصفہ“ سے قبل و اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُسْلِمِينَ ، کے اور آخر پر رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِینَ“ کے مزید الفاظ بھی شامل