اصحاب احمد (جلد 6) — Page 45
45 سے ( جب اس کا انتظام باہر دوستوں کی نگرانی میں دے دیا گیا تھا) کھانا حاصل کرتے رہیں۔اس کا باعث یہ امر ہوگا کہ مہمان نوازی کی صفت جو انبیاء میں خاص طور پر پائی جاتی ہے۔آپ میں بھی بکمال موجود تھی۔یقیناً اس طور پر احباب میں محبت و مودت کے جذبات متموج ہو جاتے ہوں گے۔نیز صحابہ وصحابیات کو سلسلہ کی برکات سے ستفیض ہونے کیلئے لازماً زیادہ فراغت بھی حاصل ہو جاتی ہوگی۔قاضی محمد عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ” جب تک دار اسیح کے نچلے حصہ میں والد صاحب کا قیام رہا۔آپ جلد سازی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو مجدد کرنے کا کام اس جگہ میں جو ڈیوڑھی کے آگے تھی کرتے تھے۔دکان کا کام بعد میں مہمان خانہ کی ایک چھوٹی کوٹھڑی میں جو جانب شمال مغرب تھی ہوتا تھا۔جلد سازی کے ساتھ معمولی سٹیشنری کا کچھ سامان مدرسہ کے طلباء کے لئے بھی رکھا ہوتا تھا۔بھائی مرحوم ( قاضی عبد الرحیم صاحب) کے جموں چلے جانے پر میں بھی بعض دفعہ بٹالہ یا امرتسر سے سامان سٹیشنری لے آتا تھا۔جو زیادہ تر کاغذ قلم دوات، پنسل پر مشتمل ہوتا تھا اس کی معمولی سی آمد ہوتی تھی۔غرض یہ تھی کہ بے کار نہ رہا جائے اور خانگی اخراجات میں کچھ تخفیف کی صورت ہو جائے۔میں کھانا گھر میں کھاتا تھا۔مگر انجمن سے مجھے تین روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔جس میں سب اخراجات برداشت کرنے ہوتے تھے۔“ علاوہ ازیں قادیان میں میاں اللہ یار صاحب ٹھیکیدار رضی اللہ عنہ کولکڑی کے ٹال کے کاروبار میں شرکت کیلئے دوصد روپیه با قاعدہ اشکام لکھ کر دیا گیا تھا۔اس بارہ میں حضرت قاضی صاحب روز نامچہ میں لکھتے ہیں کہ ”مولانا نور الدین صاحب، حکیم فضل الدین صاحب و ( میاں ) معراج الدین صاحب ( عمر ) لاہور کی شہادت سے یہ لین دین ہوا۔اسلامی طریق یہی ہے کہ وَلا تَسْتَمُوا اَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَو كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ۔۔۔۔۔إِلَّا انُ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً۔۔۔۔۔۔۔۔(24)* بہت سے نقصانات اور تنازعات اس کی عدم تعمیل کے باعث ہوتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کے زمانہ میں قادیان میں صحابہ کرام میں یہ اسلامی طریق جاری ہو چکا تھا۔قادیان میں اکتساب معیشت کے ذرائع بہت محدود تھے۔محدود کیا بلکہ سرے سے موجود ہی نہ تھے۔* سورة البقره آیت ۲۸۳