اصحاب احمد (جلد 6) — Page 44
44 بالفعل گزارہ کر لیں۔کوئی گھر تلاش کر لیں۔والسلام (23) حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاص حالات کی وجہ سے مہمان خانہ کا وہ چھوٹا سا کمرہ جو جانب شمال مغرب تھا ان کو دیا۔(بیان قاضی محمد عبد اللہ صاحب) کسب معاش کے ذرائع محدود ہونے کے باعث آپ جیسا بلند پایہ عالم اور حاذق طبیب جلد سازی اور سٹیشنری کی دکان برائے نام کرنے پر مجبور ہوا۔کسی اکا دکا کتاب کی ایجنسی بھی آپ کے پاس تھی۔(جیسا کہ الحکم /۱۰/۱/۰۲ ( ص ۷ (۲۴/۳/۰۲ ( ص ۱۲) (۲۴/۸/۰۲ ص ۱۵ میں مندرجہ اشتہارات سے صرف ایک کتاب کی ایجنسی آپ کے پاس ہونے کا علم ہوتا ہے ) حضرت اقدس اور اکثر علماء سلسلہ کی کتب سلسلہ کے ہی زیر انتظام فروخت ہوتی تھیں۔اس لئے دراصل معمولی پیمانہ پر بھی کتب فروشی کا کوئی میدان نہ تھا۔حضرت قاضی صاحب ستمبر 1901ء میں دفتر مدرسہ تعلیم الاسلام میں بطور محتر متعین کئے گئے۔آپ کے بڑے فرزند قاضی عبدالرحیم صاحب کی اسامی جموں میں تخفیف میں آجانے کے باعث انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا۔اور وہ بھی قادیان اسی ماہ ستمبر میں ہجرت کر آئے۔والد صاحب کی ملازمت پر ابھی پندرہ روز ہی گذرنے پائے تھے کہ آپ کو ان کی جگہ محر رمتعین کر دیا گیا۔تنخواہ سات روپے ماہوار تھی۔غالبا تبدیلی کا باعث یہ امر ہو گا کہ حضرت قاضی صاحب کو دفتری کام کا تجربہ نہ تھا اور اس بڑھاپے میں آپ سے دفتری کام کا بسہولت تمام سرانجام پانا ناممکن نظر آیا ہو گا اس لئے آپ کے فرزند کا جو جواں سال تھے۔آپ کی جگہ تقرر عمل میں لایا گیا۔جو بہر حال اس گھرانہ کی امداد کا رنگ رکھتا تھا۔۱۶ / اکتوبر ۱۹۰۱ ء تک حضرت اقدس کے ہاں سے ہی اس خاندان کے تمام افراد کھانا کھاتے رہے۔بعد ازاں بھی اس کا سلسلہ جاری رہا۔البتہ (جیسا کہ پہلے لکھا جاچکا ہے) ۱۷ / اکتوبر سے اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب کا کھانا گھر میں تیار ہونے لگا۔گو حضرت اقدس کی مہمان نوازی ان کیلئے بھی بدستور قائم تھی۔چنانچہ قاضی عبدالرحیم صاحب اس تاریخ کے روز نامچہ میں تحریر کرتے ہیں:۔"آج پہلے روز روٹی گھر میں پکائی ہے۔اس سے پہلے حضرت جی کے کھاتے رہے۔ہم تو اب بھی حضرت جی سے ہی کھاتے ہیں۔صرف اپنی زوجہ کی روٹی گھر میں پکنے لگی ہے۔جس کو ہر روز صبح و شام حضرت جی کے گھر جانے میں تکلیف ہوتی ہے۔“ حضرت مسیح موعود کو یہ امر زیادہ مرغوب خاطر تھا کہ مہاجرین خواہ وہ کسی کام پر متعین کر دیئے گئے ہوں۔حسب سابق حضور کے ہاں (جہاں مدت دراز تک حضور کی براہ راست نگرانی میں لنگر خانہ کا انتظام رہا ) یا لنگر خانہ