اصحاب احمد (جلد 6) — Page 43
43 میں حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے پاس اندر رہتی تھیں۔بعد میں حضرت مفتی صاحب کے اس حصہ سے چلے جانے پر اس مکان کو کشادہ کر لیا گیا تھا اور آخر تک حضرت والد صاحب اسی مکان میں مقیم رہے۔اور اسی میں ان کی وفات ہوئی۔مہاجرین کو مکانات کی دقت پیش آتی تھی اور غیر مسلم اس بے بسی سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے قاصر نہیں رہتے تھے۔اور تنگ کرتے تھے۔چنانچہ حضرت اقدس نے مولوی عبداللہ صاحب سنوری کو ایک مکتوب میں نحمده و نصلّے۔تحریر فرمایا کہ اس جگہ بڑی مشکل یہ ہے کہ مکان نہیں ملتا۔اکثر لوگ شرارت سے دیتے نہیں۔(22) قاضی صاحب کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہوا۔جو آپ کے ذیل کے خط سے ظاہر ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم بحضور امامنا و حبيبنا بعد السلام عليكم ورحمة الله وبركاته عرض داشت آنکه مهدی حسین صاحب * رخصت سے واپس آگئے ہیں۔اب عاجز کے واسطے کیا حکم ہے۔یہاں کوچہ میں جلد بندی کی بہت چیزیں لڑکے بے خبر اٹھالے جاتے ہیں۔کوئی چیز محفوظ نہیں رہتی۔اس سے پہلے یہ عاجز چھاپہ خانہ کے مشرقی دروازہ میں حکیم صاحب کے حکم سے بیٹھتا رہا ہے۔چونکہ اور کوئی ایسی جگہ موجود نہیں۔لہذا سال بھر سے زیادہ وہیں گزارا ہوتا ہے کیا اب بھی وہیں اجازت دیتے ہیں یا کوئی اور جگہ جو عاجز کے حال کے موزون ہو؟ دراصل جگہ کے بارے میں عاجز از حد مضطر ہے۔گھر کی نسبت یہ حال ہے کہ پرسوں ڈپٹی کے بیٹے نے بذریعہ ڈاک نوٹس دیا ہے کہ ایک ہفتہ تک مکان خالی کر دو۔ورنہ تین روپیہ ماہوار کرایہ مکان واجب الادا ہو گا۔اس وقت کے رفع کیلئے بھی حضور دعا فرما دیں کہ بے منتِ غیرے کوئی جگہ مولیٰ کریم میسر کرے و السلام مع والا کرام۔عریضہ نیاز مسکین ضیاء الدین عفی عنہ کے جولائی ۱۹۰۲ء " اس خط کی پشت پر حضرت اقدس نے مندرجہ ذیل جواب تحریر فرمایا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حکیم فضل الدین صاحب سے دریافت کر لیجئے کہ مہمان خانہ میں آپ کیلئے جگہ نہیں اور عنقریب میرے اس دالان کے پیچھے ایک مکان بننے والا ہے۔اس میں آپ رہ سکتے ہیں۔* حضرت سید مهدی حسین صاحب مدفون بہشتی مقبرہ بہت مخلص بزرگ تھے حضور کے کتب خانہ کا کام بھی آپ کے سپر درہا ہے۔(مؤلف)