اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 131 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 131

131 التواء تعمیر کی متعدد وجوہات ہوں۔اور ان میں سے ایک یہ بھی ہو۔لیکن اہم وجہ اس وقت روپیہ کا نہ ہونا تھا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ اس بارہ میں الحکم میں مرقوم ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آخر منارہ اسیح کا بنیادی پتھر ۱۳/ ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ مطابق ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء بروز جمعہ رکھا گیا۔بعد نماز جمعہ حضرت حجتہ اللہ مسیح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور ہمارے مکرم دوست حکیم فضل الہی صاحب لاہوری - مرزا خدا بخش صاحب۔شیخ مولا بخش صاحب۔قاضی ضیاء الدین صاحب وغیرہ احباب نے عرض کی کہ حضور منارۃ اسیح کی بنیادی اینٹ حضور کے دست مبارک سے رکھی جاوے۔تو بہت ہی مناسب ہے۔فرمایا کہ ہمیں تو ابھی تک معلوم بھی نہیں کہ آج اس کی بنیا د رکھی جاوے گی۔اب آپ ایک اینٹ لے آئیں میں اس پر دعا کروں گا۔اور پھر جہاں میں کہوں وہاں آپ جا کر رکھ دیں۔چنانچہ حکیم فضل الہی صاحب اینٹ لے آئے۔اعلیٰ حضرت نے اس کو ران مبارک پر رکھ لیا۔اور بڑی دیر تک آپ نے لمبی دعا کی۔معلوم نہیں کہ آپ نے کیسی کیسی اور کس کس جوش سے دعا ئیں اسلام کی عظمت و جلال کے اظہار اور اس کی روشنی کے کل اقطاع و اقطار عالم میں پھیل جانے کی ہونگی۔وہ وقت قبولیت کا وقت معلوم ہوتا تھا۔جمعہ کا مبارک دن اور حضرت مسیح موعود منارة امسیح کی بنیادی اینٹ رکھنے سے پہلے اس کے لئے دلی جوش کے ساتھ دعائیں مانگ رہے ہیں۔یعنی دعا کے بعد آپ نے اس اینٹ پر دم کیا۔اورحکیم فضل الہی صاحب کو دی کہ آپ اس کو منارۃ اُسیح کے مغربی حصہ میں رکھ دیں۔حکیم صاحب موصوف اور دوسرے احباب اس مبارک اینٹ کو لے کر جب مسجد کو چلے تو راستہ میں مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نماز جمعہ پڑھا کر (اور کچھ عرصہ مسجد میں ملاقاتیوں کی خاطر ٹھہر کر۔ناقل ) واپس آرہے تھے۔۔۔۔۔راستہ میں جب یہ حال آپ کو معلوم ہوا تو رقت سے آپ کا دل بھر آیا اور اس اینٹ کو لے کر اپنے سینہ سے لگایا اور بڑی دیر تک انہوں نے دعا کی اور کہا کہ یہ آرزو ہے کہ یہ فعل ملائکہ میں شہادت کے طور پر رہے۔آخر وہ اینٹ فضل دین صاحب معمار احمدی کے ہاتھ سے منارۃ اسیح کی بنیاد کے مغربی حصہ میں لگائی گئی (83)