اصحاب احمد (جلد 6) — Page 130
130 حضرت عرفانی صاحب کی اس وقت کی ذیل کی تحریر سے یہ غلط فہمی دور ہوتی ہے۔اس سے پیشتر آپ کی تقریب نکاح سے واپسی پر بھی ہم کو عرض مبارکباد کا موقع ملا تھا۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ دوسرا موقعہ بھی نصیب ہوا۔۔۔اکتوبر کی شام کو صاحبزادہ صاحب مع الخير دار الامان پہنچ گئے۔۔۔ڈاکٹر صاحب ( یعنی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ناقل) چونکہ آگرہ میں مقیم تھے۔اس لئے یہ تقریب رخصت آگرہ سے ہی ہوئی ہے (82)۔اس کی تائید البدر مورخہ ۲۳ / اکتوبر ۱۹۰۳ء سے نیز حضرت قاضی صاحب کی مندرجہ بالا ڈائری سے بھی ہوتی ہے۔(۱۵) منارۃ مسیح ( کے متعلق ) مستری فضل دین صاحب نے مجھے ایک تحریر لکھ کر دی تھی۔جس میں بنیادی اینٹ کا حال تھا جو کہ شائد ضائع ہو چکی ہے۔قادیان سے نکلتے وقت بہت قیمتی مواد وہاں رہ گیا تھا۔جس کا ہر وقت افسوس رہتا ہے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔مستری فضل دین صاحب معمار اس وقت منار پر کام کرتے تھے۔انہوں نے مجھے لکھ کر دیا تھا کہ ایک اینٹ حضور نے منگوا کر اس کو اپنی جھولی میں رکھ کر بڑی دیر دعا کی اور فرمایا کہ اس اینٹ کو اسی طرح منار کی بنیاد میں رکھ دو۔اس کو الٹا نہ کرنا۔“ مستری صاحب کہتے تھے کہ اس اینٹ کے نچلے طرف کچھ لکھا ہوا تھا۔اس وقت یہ قیاس کیا گیا تھا کہ حضور نے پہلے اینٹ پر کچھ لکھا۔اور پھر جھولی میں رکھ کر دعا کی۔پھر لکھا ہوا حصہ نیچے کا نیچے رکھ کر بنیاد میں لگانے کیلئے دے دیا۔پھر اسی طرح لاکر اس اینٹ کو بنیاد میں لگا دیا گیا تھا۔یعنی اس اینٹ کو الٹا کر کے کسی نے نہ دیکھا۔بلکہ اسی طرح لگا دیا۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بنیاد کی اینٹ رکھوانے کا رواج نہ تھا۔” منارة اسبیح کا اصل نقشہ میرے پاس محفوظ ہے۔میر محمد رشید صاحب برا در خورد میر حامد علی شاہ صاحب سیالکوٹی نے نقشہ بنایا اور دس ہزار روپیہ تخمینہ بنایا۔جو نقشہ پر درج ہے۔اور اینٹ کے لئے ایک بھٹہ چالو کیا۔جب مینار بننا شروع ہوا تو قادیان کے اہل ہنود کی طرف سے درخواست گذری کہ مینار بننے سے ہمارے گھروں کی بے پردگی ہوگی۔اس پر تحصیل دار صاحب بٹالہ قادیان میں آئے اور بعد تحقیقات اس کا جاری رکھنا برقرار رکھا تھا۔لیکن حضور نے اس کو اس وقت ملتوی فرما دیا تا کہ ہمسایہ کے احساسات کو صدمہ نہ پہنچے۔اور پھر بعد میں حالات تبدیل ہونے پر تعمیر ہو جائے گا۔یہ روایت خاکسار مؤلف کے نام قاضی صاحب کے بعد تقسیم ملک ایک مکتوب سے ماخوذ ہے۔ممکن ہے