اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 93 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 93

93 اس لئے جو موجود ہیں۔وہ اپنی اپنی جگہ جا کر دوسروں کو اطلاع دے دیں۔“ ظہر کے وقت تک ہیں احباب تیار ہو گئے۔جن میں پانچ گریجوایٹ تھے۔ان میں قاضی صاحب بھی شامل تھے۔چنانچہ مرقوم ہے کہ ظہر کی نماز کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایک بڑے مجمع کے ساتھ ان اصحاب کو روانہ کرنے کیلئے دو ڈیڑھ میل کے فاصلہ تک قصبہ سے باہر تشریف لے گئے۔قادیان کی سڑک جہاں بٹالہ والی سڑک سے ملتی ہے۔اور وہاں جو کنواں ہے۔اس کے پاس جانے والے اصحاب کو سامنے بٹھا کر ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی۔پھر دعا کی اور سب کے ساتھ مصافحہ کر کے رخصت فرمایا۔“ روز نامہ الفضل نے مزید لکھا: اگر چہ اس مقام پر مبلغین کی روانگی کے وقت حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کا تقریر فرمانا بھی ایک خاص بات تھی۔لیکن ایک اور خصوصیت جو اس موقعہ کو حاصل ہوئی وہ یہ تھی کہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھا پا پیادہ مع چند اور مستورات کے اس مقام تک تشریف لائیں۔دعا فرمائی اور اپنے فرزندوں کو اپنی آنکھوں سے اعلائے کلمتہ اللہ کیلئے روانہ ہوتے ملاحظہ فرمایا۔روانگی کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی تھوڑی دیر تک سیکوں کی طرف دیکھتے اور دل میں دعائیں فرماتے رہے۔(47) وہاں قاضی صاحب کی نگرانی میں ایک دوسرا مرکز اچھنیر مضلع آگرہ میں قائم کیا گیا۔(48) ضلع متھرا آریوں کا مرکز بن رہا تھا اس وقت بمقام تیرہ آپ کو کام کرنے کا موقعہ ملا۔(49)۔اس ضلع میں ایک برہمن عورت آپ کے ذریعہ مسلمان ہوئی۔آریوں کے ایک احمدی مبلغ پر مظالم کی رپورٹ آپ کی طرف سے بطور نائب امیر وفد المجاہدین شائع ہوئی۔(50) قاضی صاحب ۲۶ جولائی ۱۹۲۳ء کے متعلق تحریر کرتے ہیں کہ ضلع متھرا کے ایک مقام پر نصف صد لوگ اس لئے حملہ آور ہو گئے کہ ایک بکری ذبح کی گئی تھی جس کا گوشت مرتدین نے بھی خفیہ طور پر لیا تھا۔حملہ آوروں نے مبلغ پر جھونپڑی گرادی اور جب اسے اس کے نیچے سے باہر نکالا گیا تو دھکے دے کر گاؤں سے باہر نکال دیا گیا اور سامان تک بھی نہیں لینے دیا گیا۔(51) آریہ اخبارات میں بار بار ذکر آتا تھا کہ جب تک ساندھن کے لوگ اسلام ترک نہ کریں گے تب تک