اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 82 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 82

82 مولوی دلپذیر صاحب بھیروی کی پنجابی کی تبلیغی تنظمیں عورتوں کو سنا سنا کر سمجھا تیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان میں تاثیر بھی رکھی تھی۔بہت سی عورتیں ان کے ذریعہ احمدی ہوئیں۔مشرقی افریقہ میں اپنی بیٹی (اہلیہ محترم قاضی عبدالسلام صاحب) کی ملاقات کے لئے تین بار گئیں۔نیروبی میں دو احمدی مخلص دوستوں کی بیٹیاں احمدی نہ تھیں۔بلکہ کسی صورت میں احمدیت قبول نہ کرتی تھیں۔وہ مرحومہ کی تبلیغ سے احمدی ہو گئیں۔ان کی دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ایک دفعہ موضع جنڈیالہ (ضلع گوجرانوالہ ) میں برادری میں سے ایک رشتہ دار عظیم خاں کی ملاقات کیلئے گئیں۔تبلیغی گفتگو شروع ہوگئی۔رات کا وقت تھا۔اور بادل امڈے ہوئے تھے۔موسم سرما تھا۔اور بارشیں ہوتی تھیں۔عظیم خان نے تبلیغ سے تنگ آ کر کہا کہ اخبار میں موسم کی خبروں میں میں نے پڑھا ہے کہ کل بارش ہوگی۔میں کہتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب بچے ہیں تو کل بارش نہ ہو۔اگر ایسا ہو گیا تو میں احمدی ہو جاؤں گا۔آپ نے کہا منظور ہے۔گھر کے سب لوگ تو لحاف اوڑھ کر سو گئے۔لیکن آپ نے چار پائی پر ہی نوافل اور دعائیں شروع کر دیں۔بہت رات گزر گئی تو سوئیں۔صبح ہوئی تو عظیم خاں کی بیوی بولی۔خاں صاحب اٹھئے۔باہر نکل کر تو دیکھئے آسمان پر تارے نکلے ہوئے ہیں۔اور بادل کا نام ونشان نہیں۔عظیم خاں سخت شرمندہ ہوا۔لحاف میں سے نہ نکلتا تھا۔مگر بدقسمتی سمجھئے کہ منہ مانگانشان دیکھ کر بھی فائدہ نہ اٹھایا اور ٹال مٹول کر گیا۔استخارہ کے لئے بھی احباب ان کو کہتے تھے۔۱۹۳۶ء یا ۱۹۳۷ء کی بات ہے کہ آپ کے برادر زادہ قاضی مبارک احمد صاحب ( حال سٹیشن ماسٹر مشرقی افریقہ) نے قادیان میں درخواست کی کہ میرے افریقہ میں ملازم ہونے کیلئے دعا کریں۔ان دنوں ملازمتیں نہیں ملتی تھیں۔اور مشرقی افریقہ میں بہت ہی قحط سالی والی حالت تھی۔آپ کو دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ایک ڈبیہ عزیز کیلئے آئی ہے۔عزیز کے سر ڈاکٹر عمر الدین صاحب رضی اللہ عنہ (جو صحابی تھے ) مشرقی افریقہ میں میڈیکل ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔دوسرے یا تیسرے روز ان کا تار عزیز کو آیا کہ آپ کیلئے ریلوے میں ملازمت کا انتظام ہو گیا ہے۔چلے آؤ۔ڈبیہ سے مراد تا رتھی۔جو لفافہ میں بند موصول ہوتی ہے۔اسی طرح کا ایک واقعہ ہے کہ مرحومہ نے اپنی نواسی محترمہ امتہ الحمید صاحبہ کو قادیان میں اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔وہ جگر کی خرابی سے بیمار ہو گئیں۔فکرمند ہوئیں تو مرحومہ کواللہ تعالیٰ کی طرف سے پنجابی میں بتایا گیا کہ ریوند دے سو۔چنگی ہندی اے یعنی اسے ریوند کا استعمال کراؤ۔یہ اچھی ہوتی ہے۔مرحومہ اسے بڑے مزے لے کر بیان کرتیں کہ چنگی ہندی اے“ کو نہایت ہی لمبا کر کے ادا کیا گیا تھا۔چنانچہ وہ اس علاج سے بالکل تندرست ہو گئیں۔حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نے بیان فرمایا کہ ”جن دنوں حضرت میر محمد اسحق