اصحاب احمد (جلد 6) — Page 58
58 صف پر بیٹھ جائیں۔خالہ امتہ الرحمن صاحبہ نے جو حضور کے ہاں پہلے ہی تھیں۔تعارف کرایا کہ ایک میری حقیقی بہن خدیجہ ہیں اور ایک میری پھوپھی زاد بہن مریم صاحبہ ہیں اور مجھے کہا کہ یہ میرا بھانجہ ہے۔میں پاس ہی کھڑا تھا۔حضور نے فرمایا اچھا یہ قاضی صاحب کا نواسہ ہے۔اور خوش قسمتی ! کہ میرے دائیں شانے پر پیچھے ہاتھ پھیر کر پیار دیا اور دعا بھی کی۔جو مجھے یاد نہیں۔میرے اس شانے کو جو خدا تعالیٰ نے برکت بخشی۔یہ ایک الگ باب ہے۔حضرت خاله مریم بی بی صاحبہ نے جو بعد میں میری خوشدامنہ بنیں۔اس موقعہ پر حضرت صاحب کے حضور عرض کیا کہ یا حضرت! دو ہی لڑکے تھے دونوں ہی فوت ہو گئے ہیں۔شائد شامت اعمال کا نتیجہ ہے۔اور اب سوائے رونے اور گھبرانے کے کچھ نہیں سوجھتا۔آپ نے نہایت ہی محبت آمیز لہجہ میں فرمایا۔آہاں۔دیکھیں۔ایسا نہیں کہنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کو چیخا چاخی پسند نہیں۔یہ چلتی سرائے ہے۔اس مقام پر کسی کو چین نہیں۔اگر صبر کریں گی تو اس کا بہت بڑا اجر ہوگا۔اس پر خالہ صاحبہ نے اجازت مانگی کہ کیا میں پاؤں دباسکتی ہوں۔حضور نے فرمایا۔کہ ہاں۔آپ فرماتی تھیں۔کہ جب میں نے پنڈلیوں اور پیروں کو دبایا تو خیالات اور دل پر یوں معلوم ہوا جیسے کہ کسی نے زخموں پر مرہم رکھ دی۔اور مجھے بے حد پسینہ آ گیا۔آپ نے فرمایا۔دل بہت نرم ہے۔حق ادائیگی: حضرت قاضی صاحب نے اپنی وفات پر اپنا تر کہ بموجب شریعت تقسیم کر دیا تھا۔میری والدہ کے حصہ میں بعض کتابیں بھی آئیں۔بعد میں جب میں ۱۲/۱۱ سال کا تھا تو میں نے ایک کتاب پر لکھا ہوا پڑھا کہ ایک مجلد کتاب اپنی لڑکی خدیجہ بی بی کو دیتا ہوں۔خدا تعالیٰ اس کے بچوں عزیزان۔عزیز احمد اور فیض احمد طول العمر کو اس کے پڑھنے اور عمل کرنے کی توفیق بخشے۔چنانچہ اسی وقت میں نے اس کے اردو حصہ کو پڑھ کر چھوڑا۔اور دل میں ایک لگن لگ گئی۔اس وقت اپنے گاؤں موضع مبارا چکے چٹھ۔ضلع گوجرانوالہ میں احمدیت کا کوئی ماحول نہ تھا۔والدین فوت ہو چکے تھے۔مگر اس کلام کی برکت اور حضرت صاحب کے دست مبارک کی لمس نے مخالف حالات میں بچالیا۔اور احمدیت سے نوازا۔فالحمد للہ علی ذالک“