اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 41 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 41

ذیل کے اندراج سے روشنی پڑتی ہے: 41 اس دفعہ حضرت نے تاکید فرمایا کہ یہاں چلے آؤ۔اور عاجز نے بھی منظور کیا۔“ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ حضرت اقدس آپ کو پہلے بھی ہجرت کی تحریک فرما چکے تھے۔اس دفعہ تاکیداً تحریک فرمائی۔جو آپ نے قبول کر لی۔وطن واپس جا کر آپ نے خط لکھا۔جس کے جواب میں ۳ دسمبر ۱۹۰۰ ء کو حضور نے رقم فرمایا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسولہ الکریم محتمی عزیزی اخویم قاضی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خیریت نامہ پہنچا۔بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ تشریف لاویں۔آپ کی بہو * کے لئے اگر ساتھ لے آویں۔تین چار ماہ تک کوئی بوجھ نہیں۔ایک یا دو انسان کا کیا بوجھ ہے۔پھر تین چار ماہ کے بعد شاید آپ کے لئے اللہ تعالیٰ اس جگہ کوئی تجویز کھول دے۔ومن يتوكل على الله فهو حسبه، سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ ہمارا اور آپ کی عمر کا آخری حصہ ہے۔بھروسہ کے لائق ایک گھنٹہ بھی نہیں۔ایسا نہ ہو کہ جدائی کی موت موجب حسرت ہو۔موت انسان کیلئے قطعی۔اور اس جگہ موت سے ایک جماعت میں نزول رحمت کی امید ہے۔غرض ہماری طرف سے آپ کو نہ صرف اجازت بلکہ یہی مراد ہے کہ آپ اس جگہ رہیں۔ہماری طرف سے روٹی کی مدد دو انسان کے لئے ہوسکتی ہے اور دوسرے بالائی اخراجات کیلئے آپ کوئی تدبیر کر لیں۔اور امید ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی تدبیر نکال دے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار۔مرزا غلام احمد عفی عنہ ۳ / دسمبر ۱۹۰۰ء (20) چنانچہ قاضی صاحب جلد بعد ۱۹۰۱ء میں قادیان ہجرت کر آئے۔حضرت عرفانی صاحب فرماتے ہیں: اس ہجرت میں خاکسار عرفانی کو بہت بڑا دخل تھا۔اور پھر قادیان سے جانے کا انہوں نے نام نہیں لیا۔اور قادیان ہی میں فوت ہو کر دفن ہوئے۔اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے فضل کرے اور اپنے قرب کے مقام پر انہیں اٹھائے۔آمین۔(21) اپنے والد ماجد کی ہجرت کے قریب ہی ( یعنی ستمبر 1901ء میں ) قاضی عبدالرحیم صاحب * مراد محتر مه صالحہ بی بی اہلیہ قاضی عبدالرحیم صاحب