اصحاب احمد (جلد 6) — Page 40
40 اعتراض کے رفع کرنے کا خاص طور پر وعدہ کیا تھا۔دجالی فتنہ کے مقابلہ کیلئے ہر کوشش قابل قدر ہے۔خواہ تحریری ہو یا غیر تحریری یا مالی ہو یا کسی اور رنگ کی ہو۔اس موقعہ پر حضرت اقدس نے ایک لمبی تقریر فرمائی تھی۔جو پونے نو کالم میں الحکم مورخہ ۱۷ اپریل 1901ء میں درج ہوئی۔اس سے قبل حضور ایک اشتہار ” ایک ضروری تجویز“ کے عنوان سے ۱۵ جنوری ۱۹۹۱ء کو شائع فرما چکے تھے۔اس سے ریویو کی اہمیت ظاہر ہے۔کیونکہ اس فتنہ کی بیخ کنی کیلئے مساعی جاری رکھنا۔اس کا مقصود تھا۔اور حضور کے مضامین انگریزی میں اس کے ذریعہ دیگر ممالک میں کثرت سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔سواس کارخیر میں حضرت قاضی صاحب اور آپ کے بعض رفقاء کو جو سارے۳۱۳ صحابہ میں شامل ہیں۔شریک ہونے کا موقعہ ملا۔سب نے ایک ایک حصہ خریدا۔اسماء یوں درج ہیں : قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹ جان محمد قاضی محمد یوسف صاحب قاضی میر محمد صاحب کوٹ کیلاں" " " گوجرانوالہ“ (19) قادیان میں ہجرت اور ذریعہ معاش : آپ بے حد محنتی اور جفاکش تھے۔اپنے گاؤں میں باوجود مخالف پارٹی کے قاضیوں کی طرف سے مقاطعہ کے خود ہی اپنی ساری ضرورت مہیا کر لیتے تھے۔اور تبلیغی کاموں میں پورے طور سے سرگرم رہتے تھے۔جب مخالف قاضیوں نے مولوی عبدالحق غزنوی اور مولوی محمدعلی بو پڑی کو گاؤں میں بلا کر آپ سے مباحثہ کرایا اور مولوی بُری طرح فیل ہوئے تو اس ناکامی کے باوجود انہوں نے آپ کے پورے طور سے مقاطعہ کا اعلان کر دیا اور مسجد سے نماز پڑھنے سے روک دیا۔تو پھر بھی آپ نہایت مستعدی سے زیر اثر احباب کو حق کی طرف بلاتے رہے۔گھر کے پاس ایک نئی کچی مسجد بنالی۔جس میں گاؤں کے آپ کے کئی ہم خیال باشندے آپ کے ساتھ نماز ادا کرتے اور آپ کے وعظ ونصائح سے مستفید ہوتے۔پھر جب آپ ہجرت کر کے قادیان آگئے۔تو یہاں بھی خدمت سلسلہ میں مصروف رہے۔اور نہایت تندہی سے سارے کام خود ہی کرتے تھے۔( قادیان میں ) جلد بندی کے کام کے علاوہ مہمانوں اور نو واردین کے ساتھ میل ملاقات اور سلسلہ کے متعلق گفتگو کرنے کا موقعہ خوب ملتا رہا۔جس سے آپ آخری وقت تک حسب ضرورت تبلیغ حق کے پہنچانے میں مشغول رہے۔( بیان قاضی محمد عبد اللہ صاحب)۔آپ کی ہجرت کیونکر ہوئی اس پر روز نامچہ میں زیر ۲۱ / اسوج سمہ ۱۹۵۷ (مطابق ۶/ اکتوبر ۱۹۰۰ء) کے