اصحاب احمد (جلد 6) — Page 145
145 کے متعلق کوئی مضمون لکھا جائے گا۔وہ کل حالات صرف پرائیویٹ طور پر تحریر کئے تھے کہ اس مضمون کیلئے مصالحہ درکار ہوگا۔اس لئے اس خط میں میں نے بعض باتیں بے تعلق بھی درج کر دی تھیں۔جن کا اصل غرض کے ساتھ کوئی لگاؤ نہ تھا۔اگر اخبار کیلئے مضمون لکھتا تو طرز تحریر بدل دیتا۔جیسا کہ پہلے خط میں میں نے قابل گرفت الفاظ کا لحاظ رکھا ہے۔ایسے ہی اس خط میں بھی ان باتوں کو مدنظر رکھتا۔میں نے تو صرف حضور کے واسطے لکھا تھا نہ اخبار کیلئے۔مفتی صاحب کی طرف اس لئے لکھا تھا کہ شاید مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی جابجا مفتی صاحب خط و کتابت کا کام کرتے ہیں۔کیونکہ حضرت کی خدمت میں جو خط لکھا تھا۔اس کا جواب مفتی صاحب نے دیا تھا۔اور نیز میں نے اجازت نہیں دی کہ اس خط کو اخبار میں شائع کیا جائے۔جیسا کہ پہلے خط میں دی تھی۔اگر میں لکھ بھی دیتا کہ اس کو شائع کیا جائے تو بھی ایڈیٹر صاحب اور مینجر صاحب کا فرض تھا کہ چھپنے سے پہلے مضمون کے ہر ایک پہلو پر غور کر لیتے اور بعد قانونی تصحیح کے چھاپتے۔کیونکہ کرم دین کے مقدمہ نے پورا پور اسبق سکھا دیا تھا۔جن مخالفوں نے ایک لٹیم کے لفظ پر اس قدر زور مارا کیا اب وہ کچھ کم کریں گے؟ آئندہ ماشاء اللہ۔ان کو تو خدا خدا کر کے ایسے موقعے ہاتھ لگتے ہیں۔اب بھلا وہ کس طرح در گذر کریں؟ اصل مضمون میں یہ لفظ ہیں۔دو اس کی عورت پر لوگ یاری آشنائی کے الزام لگاتے ہیں۔ممکن ہے کہ وہ اس کی زندگی میں بھی خراب ہو۔یعقوب مسیحی سے میں نے یہ سنا تھا لیکن اب وہ انکاری ہے۔اور ثبوت طلب کرتا ہے۔یہی عیسائی اور مسلمان اس پر تلے ہوئے ہیں کہ عورت کی طرف سے فوجداری مقدمہ کروایا جائے۔آج کل میں مقدمہ دائر کرنے والے ہیں۔پیروی کے واسطے ایک بڑی کمیٹی مقرر ہوئی ہے۔بظاہر ان کے باز رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۱۹ / فروری کا الہام۔۔عورت کی چال۔ایلی ایلی لماستانی“ (91) شاید یہی چال نہ ہو۔میں دین کے کام میں لڑنے اور تکلیف سے نہیں ڈرتا۔صرف ناداری اور عیالداری کی وجہ سے خوف ہے۔اس وقت میرے پاس کوئی سرمایہ نہیں جو مقدمہ میں کام آسکے۔اور مقدمہ کی ایک پیشی بھی سرمایہ بغیر بھگتی نہیں جاسکتی۔اس لئے یہ مقدمہ میرے