اصحاب احمد (جلد 6) — Page 135
135 میں سے نمبر ۴۷ پر قاضی ظفر الدین صاحب پروفیسر کا نام بھی درج ہے۔(84)۔اعجاز احمدی کا جواب لکھنے کی دعوت میں حضور نے پروفیسر صاحب مذکور کا نام بھی خاص طور پر لیا تھا۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں: امکفر مهلاً كلّما كنت تذكر وامل كمثلي ثم انت مظفّر ! رضیت بان تختار في النمق رفقةً وأنا على املاء هم لا نعير فما الخوف في هذا لو غايا ابا الوفا ليمل حسين أو ظفرأا واصغر ! وانی ارى في رأسهـم دُودٍ نخوة فان شآء ربّى يخرجَنَّ و يجذر * (85) نیز فرماتے ہیں: اگر اب مولوی ثناء اللہ اور دوسرے میرے مخالف پہلو تہی کریں اور بدستور مجھے کافر اور دجال کہتے رہیں تو یہ ان کا حق نہیں ہوگا کہ مغلوب اور لاجواب ہوکر ایسی چالا کی ظاہر کریں۔اور وہ پبلک کے نزدیک جھوٹے ٹھہریں گے۔اور پھر میں یہ بھی اجازت دیتا ہوں کہ وہ سب مل کر اردو مضمون کا جواب اور قصیدہ مشتملہ بر واقعات لکھ دیں اگر۔۔۔۔۔انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا۔اور میر اسلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہئے کہ مجھے چھوڑ دیں۔اور قطع تعلق کریں۔لیکن اگر اب بھی مخالفوں نے عمد ا کنارہ کشی کی تو نہ صرف دس ہزار روپے کے انعام سے محروم رہیں گے۔بلکہ دس لعنتیں ان کا ازلی حصہ ہوگا۔اور اس انعام میں سے ثناء اللہ کو پانچ ہزار ملے گا۔اور باقی پانچ کو اگر فتح یاب ہو گئے ایک ایک ہزار ملے (86)" پیشگوئی بالا کے مطابق قاضی ظفر الدین اور اس کے خاندان کا استیصال ہوا۔قاضی عبدالرحیم صاحب ترجمہ:اے میرے کافر کہنے والے( ثناء اللہ ! گذشتہ سب باتیں چھوڑ دے اور میری مانند قصیدہ لکھ۔پھر تو فتح یاب ہے۔میں نے یہ بھی قبول کیا کہ اگر تو مقابلہ سے گرے تو اپنے رفیق بنالے اور ہم ان کے لکھنے میں کوئی سرزنش تجھے نہیں کرینگے۔پس اے ابوالوفا ( ثناء اللہ ) اس لڑائی میں تجھے کیا خوف ہے؟ چاہئے کہ (مولوی) محمد حسین بٹالوی ( ایڈووکیٹ فرقہ اہلحدیث ) اس کا جواب لکھے۔یا قاضی ظفر الدین یا اصغر علی۔اور میں ان کے سر میں تکبر کے کیڑے دیکھتا ہوں۔اگر خدا چاہے تو وہ کیڑے نکال دے گا۔اور جڑھ سے اکھاڑ دے گا۔