اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 115 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 115

115 قاضی صاحب نے فرمایا کہ وہ واقعہ عید الاضحیٰ کا تھا۔جس کی وجہ سے ہم اور کئی دیگر مشتاقین حضور کی زیارت اور ارشادات سے فیض یاب ہونے کیلئے دور دور سے آئے ہوئے تھے۔اگلے دن عید تھی۔لیکن حضرت اقدس اچانک دورہ اسہال سے سخت بیمار ہو گئے۔احباب جماعت کو بہت فکر تھا کہ حضرت اقدس کی بیماری کی وجہ سے ہمیں حضور کی صحبت اور ارشادات سے محروم نہ رہنا پڑے۔چنانچہ رات کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت اقدس کی عیادت اور مزاج پرسی کے واسطے جب اندر تشریف لے گئے تو انہوں نے آئے ہوئے مہمانوں کے جذبات اور اشتیاق کی ترجمانی کرتے ہوئے عرض ( کر کے دریافت کیا کہ کیا حضور کل عید پر تشریف لے جائیں گے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ مفتی صاحب۔آپ دیکھ رہے ہیں کہ بیماری کے دورہ سے کس قد ر ضعف ہورہا ہے۔اس حالت میں میں کس طرح جا سکتا ہوں۔چنانچہ جب حضرت مفتی صاحب نے حضرت اقدس کا یہ حال اور یہ فرمان باہر آ کر مشتاقین اور منتظرین کو سنایا تو سب پر افسردگی چھا گئی اور حضرت اقدس کی صحت و عافیت کیلئے دعائیں ہونے لگ گئیں۔رات گزر گئی۔اگلے دن یعنی عید کی صبح کو جب حضرت مفتی صاحب کو حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ ملا تو حضور نے ان کو دیکھتے ہوئے نہایت خوشی کے لہجہ میں فرمایا کہ مفتی صاحب ہم نے تو کل آپ کو جواب ہی دے دیا تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی درخواست کو منظور فرمالیا ہے۔لیکن ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے الہا ما ارشاد ہوا ہے کہ اس موقعہ پر ہم کچھ تقریر کریں۔سواگر چہ اس وقت تک ہم اپنے ضعف کی وجہ سے اس قابل نہیں ہیں کہ باہر جاسکیں۔یا کچھ سنا سکیں۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔اس لئے ہمیں یقین ہے کہ وہ اس کی طاقت اور توفیق بھی عطا کر دے گا۔” جب حضرت مفتی صاحب باہر تشریف لائے تو انہوں نے حاضر آمدہ مہمانان کو حضرت اقدس کی طرف سے یہ بشارت سُنا دی اور لوگوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔اس کے بعد جب حضور مسجد اقصیٰ میں عید کی نماز کے لئے تشریف لے گئے۔تو ضعف کی وجہ سے احباب کے سہارا دینے سے حضور نے راستہ طے کیا۔لیکن خطبہ پر کھڑا ہوتے ہی حضور کو اللہ تعالیٰ نے خاص طاقت اور توانائی عطا فرمائی۔چنانچہ حضور نے پہلے اردو میں تقریر فرمائی