اصحاب احمد (جلد 6) — Page 108
108 کے فضل سے ایک کامیاب ہائی سکول ہے۔اس مدرسہ میں جماعت کے سینکڑوں بچوں نے تعلیم پائی۔اور ان میں بہت بڑی تعداد دنیا کی زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب زندگی بسر کر رہے ہیں۔اور دینی حیثیت سے انگلستان اور ماریشس کے مشنری قاضی عبداللہ صاحب اور مولوی غلام محمد صاحب بھی اسی سکول کے طالب علم ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے اور چوہدری فتح محمد صاحب ایم اے سلسلہ کی خدمت کیلئے جو کام کر رہے ہیں وہ بھی کوئی پوشیدہ بات نہیں۔یہ واقعات میں نے مدرسہ کی عظمت اور اس کے نتائج کی عمدگی کیلئے پیش کئے ہیں“۔(65)۔وو۔اسی طرح شیخ محمود احمد صاحب عرفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: تم نے صرف اپنے نفسوں سے ہی جنگ نہیں کرنی۔بلکہ شیطان کی فوج کو شکست دینی ہے۔تمہارا مقابلہ صرف ایک مذہب سے نہیں بلکہ دنیا کے ادیان سے ہے۔بلکہ خود اپنے گھر کے اندر مسلم کہلانے والوں کی اصلاح کی از حد ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔ہم کو ایک سیال۔ایک نیر۔ایک صادق۔ایک قاضی عبد اللہ یا ایک صوفی مبارک علی۔غلام محمد۔عبید اللہ پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے۔بلکہ جب تک تم ہزاروں۔نہ پیدا کرلو۔تم یقین جانو کہ تم نے کچھ بھی کام نہیں کیا۔‘ (66) سلسلہ کے لٹریچر میں ذکر : جماعت احمدیہ کا ممتاز رکن ہونے کے باعث ہمیشہ ہی سلسلہ کے اخبارات میں آپ کا ذکر آتا رہا ہے۔اس موقعہ پر چند ایک حوالے درج کرتا ہوں۔(1) رپورٹ محکمہ زراعت جماعت احمدیہ بابت ۱۹۱۹ ص۸ (۲) راجپال نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں بے حد گستاخانہ کتاب شائع کی تھی۔جسٹس دلیپ سنگھ نے اسے بری کر دیا۔کہ وہ قانون کی زد میں نہیں آتا۔یہ فیصلہ مسلمانوں کی حد درجہ دل آزاری کا موجب ہوا۔اس بارہ میں مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر وغیرہ نے احتجاج کیا تو وہ گرفتار کر لئے گئے کہ ہائی کورٹ کے جج کی ہتک ہوئی ہے اس موقعہ سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فائدہ اٹھا کر کئی ایک مفید تحریکات مسلمانوں میں کیں۔جن کے نتائج بہت دُور رس تھے۔اور ان کی افادیت شک وشبہ سے بال تھی۔اس کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں۔ایک اور جلد میں جو عنقریب شائع ہوگی۔زیادہ تفصیل درج کی جائیگی۔