اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 102 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 102

102 وقت جمیع امراض دنیا کی شفا ہے۔اس لئے ہر موقعہ پر حضرت مسیح موعود کو ضرور پیش کریں۔سڑک بٹالہ کے موڑ پر پہنچ کر حضرت مع احباب ٹھہر گئے اور کھڑے ہو کر ایک لمبی دعا کی اور اس کے بعد حضرت صاحب نے قاضی صاحب کو رخصت فرمایا۔بہت سے احباب نے چلتے وقت قاضی صاحب سے مصافحہ کیا اور ماسٹر عبدالرحیم صاحب و شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی امرتسر تک ساتھ گئے۔خدا کی نصرتیں ان کے شامل حال ہوں۔ان کی خدمات دین حق کیلئے بہت سی فتوحات کا موجب ہوں اور انہیں کامیابی اور سرخروئی کے ساتھ پھر احباب واقارب سے ملائے۔آمین۔“ (59) آپ کی روانگی کے متعلق مؤقر الحکم میں تحریر ہے کہ : ستمبر کو بعد نماز ظہر ٹھیک ۳ بجے حضرت خلیفہ ثانی قاضی عبداللہ صاحب کو روانہ کرنے کیلئے نکلے۔اور سڑک پر جو کنواں آتا ہے۔وہاں تک مشایعت کیلئے تشریف لے گئے۔قادیان کی مقیم جماعت آپ کے ہمراہ تھی۔آپ نے قاضی صاحب کو اپنے ہاتھ سے نصائح لکھ کر دیں۔جو نہایت قیمتی اور قابل قدر ہیں۔۔۔۔۔حضرت خلیفہ ثانی نے ان نصائح میں کام کرنے کے عملی طریق اور تو کل علی اللہ اور دعاؤں پر زور دینے اور کفایت شعاری اور سادگی کی تعلیم دی ہے۔اور سب سے بڑھ کر۔۔۔۔ایسے لوگوں سے الگ رہنے کی ہدایت کی ہے جو آزادی کا بے جا استعمال کرتے ہیں۔آپ نے مشکلات پر غالب آنے کے اصول بھی بتائے ہیں۔غرض وہ نصائح پڑھ کر معلوم ہوگا کہ جولوگ خلیفہ ثانی کو بچہ کہتے ہیں۔ان کے وہم میں بھی وہ باتیں نہیں آسکتیں۔اور اگر ان نصائح سے کوئی اندازہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ ہدایات دینے والا بڑا مد بر خدا پرست۔متوکل دعاؤں کا عادی اور مختلف طبقوں میں طریق تبلیغ کا تجربہ کار ہے۔زبانی بھی آپ ہدایات دیتے گئے اور وہاں پہنچ کر آپ نے ایک لمبی دعا کی اور قاضی صاحب کو رخصت کر کے واپس آئے۔مومن کے ایمان بڑھانے کیلئے ہر بات ایک معرفت کا نکتہ ہوتی ہے اور ظالم معترض کے نزدیک وہی ٹھوکر کا پتھر۔جب قادیان سے نکلے تو سخت دھوپ تھی۔ماسٹر عبدالرحیم صاحب ( یعنی حضرت نیر صاحب۔مولف ) نے کہا کہ حضرت صاحب ( یعنی مسیح موعود ) کے ساتھ ایک بادل ہوا کرتا تھا۔اس کے ساتھ ہی ایک بادل کا ٹکٹڑ انمودار ہوا۔اور سڑک تک جانے