اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 92 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 92

92 سب دھری کی دھری رہ گئیں۔اس کے علاوہ ۱۹۲۴ء میں سفر یورپ کی مہم بھی در پیش ہوئی۔وہاں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا کا نفرنس مذاہب میں مضمون پڑھا گیا۔لنڈن میں حضور نے مسجد کی بنیا درکھی۔الہی تقدیر سے اس سفر کے عرصہ میں حضرت مولوی نعمت اللہ خاں صاحب افغانستان میں شاہ امان اللہ خاں کے حکم سے شہید کئے گئے۔ان سب واقعات سے اپنے ملک اور یورپ وغیرہ میں جماعت خاص طور پر روشناس ہوئی۔اور حضرت مسیح موعود کا۹ جنوری ۱۹۰۴ء کا یہ الہام پورا ہوا۔نصرت و فتح وظفر تا بست سال“ قاضی محمد عبد اللہ صاحب کو انسداد ارتداد کے سلسلہ میں علاقہ ملکانہ میں تبلیغ کے خاص مواقع حاصل ہوئے۔تفصیلاً یہاں اندراج کا موقع نہیں۔صرف نوجوانوں کے ازدیاد علم اور ان کی قربانی کی روح کو مہمیز کرنے کیلئے کچھ حالات درج کرتا ہوں۔میں فرمایا: حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۲ مارچ ۱۹۲۳ء کو نماز فجر کے بعد موقع کی نزاکت کے باعث تقریر کی۔جس ” میں نے جو ملکا نہ قوم میں تبلیغ کی تحریک کی تھی۔آج رات میں نے آریہ اخباروں کا مطالعہ کیا۔تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ بہت سُرعت سے کام کر رہے ہیں اور جلد سے جلد وہ اس کام کو سرانجام دینا چاہتے ہیں۔” میں نے جو سکیم تیار کی ہے۔اس کے یکم اپریل سے جاری کرنے کا ارادہ تھا۔لیکن اب اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ایک تو پہلے ہی ہم ایک مہینہ پیچھے کام کریں گے اور دوسرے ہمارے پاس ایسے آدمی بھی کوئی نہیں جو اس جگہ کی مقامی طرز تبلیغ سے واقف ہوں۔۔۔۔۔۔۔اس لئے میں نے مناسب خیال کیا کہ آج چوہدری فتح محمد صاحب جو جار ہے ہیں۔کچھ لوگ آج ہی ان کے ساتھ روانہ ہو جائیں۔تا کہ وہ اس عرصہ میں وہاں کے حالات کے مطابق کام کرنا سیکھ لیں اور پھر بعد میں آنے والوں کو دقت پیش نہ آئے۔سوجن دوستوں نے درخواستیں دی ہیں۔ان میں سے جو لوگ آج ہی تیار ہوں۔وہ مجھے ظہر سے پہلے پہلے اپنے نام دے دیں۔تاکہ میں انتخاب کر کے ظہر کے بعد ان کو روانہ کر سکوں۔۔۔دنیا دار (لوگوں)۔۔۔۔۔۔کی نظر میں وہی شخص زیادہ معزز ہوتا ہے جو ڈگری یافتہ ہو۔۔۔۔۔۔اس لئے ایسے لوگوں کو زیادہ تر اس طرف توجہ کرنی چاہئے جو ڈگری یافتہ ہوں۔جہاں تک ہو سکے جلدی کریں۔ورنہ وقت ہاتھ سے جاتا رہے گا۔خدمت دین کے موقعے ہمیشہ نہیں ملا کرتے۔۔۔۔۔چونکہ اس جگہ لوگ تھوڑے ہیں۔