اصحاب احمد (جلد 6) — Page 70
70 تخمینہ پیش کر دیں۔مگر انجمن کی عمارات اس قدر دور ہیں کہ وہاں تک پانی کس طرح جائے گا۔؟“ مسجد مبارک ربوہ کی تعمیر کا کام بھی آپ ہی کے ہاتھوں تکمیل پذیر ہوا۔آپ نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں ۲۱ اگست ۱۹۵۱ء کو ذیل کا خط تحریر کیا۔اس سے آپ کے جذبات تشکر وامتنان کا علم ہوتا ہے۔مودبانہ گذارش ہے کہ مسجد کا کام اب چند دنوں تک ختم ہونے والا ہے۔۔۔۔الحمد للہ۔اب لوگ کہتے ہیں کہ سب دیگر عمارتوں سے مسجد کی عمارت ممتاز ہے۔میں ایک خطا کار انسان ہوں۔یہ تو محض اللہ تعالیٰ کا کرم اور اس کی ذرہ نوازی ہے کہ اس نے قادیان میں بھی اور یہاں بھی اس قسم کی خدمت کے مواقع عطا کئے۔اے خداوند کریم ! یه سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگاہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار اگر ہر موئے من گردد زبانے بتورا نم بہرا یک داستانے نیامد گوہر شکر تو سفتن سر موئے زِ احسان تو گفتن حضور کا بھی شکر گزار ہوں کہ ہمیشہ سے حضور کی توجہ خسروانہ میری دستگیری کرتی رہی۔اللہ تعالیٰ حضور کو صحت بخشے۔حضور کا ادنیٰ خادم قاضی عبدالرحیم مندرجہ بالا خط میں آپ نے کام کا ختم ہونا عرض کر کے راولپنڈی چند دن کے لئے جانے کی اجازت طلب کی تھی۔حضور نے اپنے دست مبارک سے اس خط پر تحریر فرمایا ہوا ہے: ” اچھی بات ہے“ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ آپ کی حسن کارکردگی کے متعلق ہمیشہ اظہارِخوشنودی فرماتے۔قادیان میں ایک خطبہ جمعہ میں حضور نے فرمایا کہ جو کام قاضی صاحب نے کرایا ہے وہ نہایت ہی پائیدار اور روپوں کا کام آنوں میں کرایا ہے۔اور جب میں کوٹھی دار الحمد کے اندر قدم رکھتا ہوں تو قاضی صاحب کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔حضور ایدہ اللہ نے جون ۱۹۵۱ء میں ایک خط میں قاضی صاحب کو لکھوایا کہ میرے مکانات جس مستری کی زیر نگرانی بن رہے تھے۔اس کا کام تسلی بخش نہیں تھا۔اس لئے ان کو علیحدہ کر کے چوہدری برکت علی خاں صاحب ( حال پنشر وکیل المال تحریک جدید۔ربوہ) نے کام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔لیکن چونکہ وہ اس فن کے