اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 69 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 69

69 بلڈنگ کنٹریکٹر کے طور پر دیگر احباب کے مکانات تعمیر کراتے رہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی شاندار کوٹھی بیت الظفر آپ ہی کے ذریعہ تعمیر کروائی۔آپ نے عمارتی سامان سیمنٹ لو ہاوغیرہ کی دکان بھی کھول لی تھی۔جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت برکت دی تھی۔آپ کے ہی ذریعہ مسجد مبارک و مسجد اقصی کی توسیع عمل میں آئی۔قصر خلافت تعمیر ہوا۔منارۃ امسیح کی تکمیل ہوئی۔حضرت ام المومنین۔حضرت خلیفہ اول حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہ اپنے سب عمارتی کام آپ ہی کے سپر دفرماتے تھے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ڈلہوزی کی کوٹھی موسومہ بیت الفضل آپ ہی کی زیر نگرانی تیار ہوئی تھی۔حضرت خلیفہ اول نے آپ کے ایک کام سے خوش ہو کر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے تحریر فرمایا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ قاضی صاحب! نلکا پانی خوب نکلا ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے بعد آپ کی محنت پر جزاک اللہ احسن الجزاء۔یہ دل سے دعا ہے اللہ تعالیٰ قبول کرے۔نورالدین ۱۲ / جنوری ۱۹۱۴ء “ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے الہام الہی کے مطابق ربوہ میں جو میٹھا پانی اللہ تعالیٰ نے نکالا ہے۔تو یہ برکت بھی قاضی صاحب کو ہی ملی۔چنانچہ آپ حضور کی خدمت میں ۸ مئی ۱۹۵۱ء کو تحریر کرتے ہیں :۔"پمپ لگانے کی تجویز پیش کرنے کے موقعہ پر حضور نے پانی جمع رکھنے کیلئے ایک ٹینکی بنا کر کوٹھیوں اور مسجد میں بذریعہ نالیاں پانی پہنچانے کا خیال ظاہر فرمایا تھا اور جب پانی نکال کر حضور کو اطلاع دی تو حضور نے فرمایا کہ الہام پورا ہو گیا۔(تیرے قدموں کے نیچے پانی بہا دیا ) اس وقت پانی کیلئے کامیاب پمپ لگ گیا۔لیکن اگر اس پر واٹر ورکس کے طور پر انتظام کر لیا جائے تو بڑا آرام مل سکے گا۔جو کام بعد میں کرنا ہے۔وہ جلدی کر لیا جائے تو فائدہ جلد ہو سکتا ہے۔پس اگر حضور پسند فرماویں تو میں تخمینہ بنا کر پیش کر دوں گا۔اور بعد منظوری ایک مہینے کے اندر یہ کام کرا دینے کی امید رکھتا ہوں۔انشاء اللہ تعالیٰ۔“ حضور نے اپنے قلم مبارک سے اس خط پر تحریر فرمایا ہوا ہے: * کتاب کے آخر پر روایات میں چھموں کے ایک ٹھیکیدار سے آپ کا جو واقعہ ہوا وہ ۱۹۰۷ ء کا ہے۔لیکن حضرت اقدس کی تدفین کے وقت حضور کا مزار آپ ہی نے تیار کروایا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی زندگی میں ہی آپ مستقل طور پر پھر قادیان واپس آچکے تھے۔اس وقت پل سڑک بہشتی مقبرہ اور کنو آں بہشتی مقبرہ کا کام شروع ہو چکا ہوگا۔