اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 62 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 62

62 پچیس روپے مشاہرہ پاتے تھے۔اور قادیان میں آپ کو غالباً ہمیں روپے مشاہرہ پر لگایا گیا تھا۔آپ نے مکتوب مورخه ۳۰ جولائی ۱۹۵۱ء میں سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر کیا: یہ خاکسار حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں قادیان میں سات روپیہ ماہوار پر ہائی سکول میں محتر رتھا اور اس ملازمت کو نعمت غیر مترقبہ خیال کیا کرتا تھا۔اس وقت حضور (یعنی حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ۔(مؤلف) سکول میں مع برادران پڑھتے تھے۔لیکن ایک سال گزرنے کے بعد بوجہ عدم گنجائش محترر کی اسامی تخفیف ہونے پر مجھے سبکدوش ہونا پڑا۔بعدہ دو تین سال کچھ تجارت اور کچھ فرمہ شکنی اور ریویو آف ریلیجنز کی سلائی اور کٹائی کر کے گزارہ کیا۔اس کام میں میری اہلیہ شریک کار تھیں۔خدا تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ایسی تنگی اور تنگ گذران کے وقت دل خوش اور اطمینان سے لبریز رہتا تھا۔اس وقت میں خیال کیا کرتا تھا کہ اس مسیح کے قدموں میں دن گزار رہا ہوں۔راہ تکتے تکتے جن کی کروڑوں ہی مر گئے پھر بادل گریاں حضور کے مشورہ سے خاکسار کو باہر جانا پڑ گیا۔لیکن جتنی مدت میں باہر رہا۔میرے دل میں ایک جلن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جدائی کی لگی رہتی تھی۔آخر جب تعمیر ( قادیان میں۔ناقل ) شروع ہوئی تو میں نے درخواست دی کہ اگر چپڑاسی کی جگہ مل جائے تو مجھے جگہ دی جائے۔وہ درخواست اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا رہتا کہ اگر پھر مجھے قادیان جانا نصیب ہوا تو میں خواہ بھوکا رہوں۔نکلنے کا نام نہ لوں گا۔یہ ایک قسم کا عہد تھا۔جو میں نے اللہ تعالیٰ سے کر رکھا تھا۔اور میں انجمن کی ملازمت چھوٹنے کے بعد مدت تک سخت مالی تنگی میں مبتلا رہ کر بھی اس پر قائم رہا۔* لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس رنگ میں ظاہر ہوئی کہ وہاں سے سب کو نکال دیا گیا اور میری بد عہدی کی سزا مجھے اس رنگ میں ملی۔انا للہ و انا الیه راجعون۔اس اخراج کے بعد * وقت کے لحاظ سے گنجائش نہیں۔بوقت طبع ثانی انشاء اللہ تعالیٰ سن ہجرت کی تعیین کر لی جائے گی۔تدفین حضرت مسیح موعود کے موقعہ پر مزار مبارک کی تکمیل یقینا آپ ہی کے ذریعہ سرانجام پائی تھی۔ممکن ہے آپ اس موقعہ پر ہی آئے ہوں۔یا ہجرت کر کے آچکے ہوں۔آپ کے اس خط سے ظاہر ہے کہ قادیان میں تعمیر کا کام کھلنے پر آپ قادیان میں دوبارہ آگئے۔میرے نزدیک تعمیر سے مراد پل بہشتی مقبرہ۔کنواں بہشتی مقبرہ وغیرہ کی تعمیر مراد ہے۔توسیع مسجد مبارک کا کام بھی حضرت اقدس کے زمانہ میں ہوا۔غالباً آپ دوبارہ حضرت اقدس کی زندگی میں مستقل طور پر ہجرت کر کے آچکے تھے۔