اصحاب احمد (جلد 6) — Page 61
61 بھائی صاحب نے توقف کیا اور آج کل میں ۲۵ / جنوری ہوگئی ہے۔ابوی صاحب کا نوازش نامہ ملا ہے۔کہ بڑی دیر ہوگئی ہے۔اگر صورت نہیں بنی تو فور اواپس چلے آؤ۔۲۶ کو میں نے ان کی طرف لکھ دیا کہ ابھی تو قف ہے۔“ ۳۰ جنوری ۱۹۰۴ء آج خلیفه نور دین صاحب کی دکان پر گیا۔خلیفہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔یہ قادیان سے آئے تھے۔وہاں کی خیر خیریت بیان کرتے تھے۔“ ۹ فروری ۱۹۰۴ء۔آج رات خواب میں حضرت مسیح موعود سے مصافحہ کیا۔“ ۱۷ / فروری ۱۹۰۴ء ( اسے روایات میں درج کر دیا ہے۔حضرت اقدس کا اس میں بھی ذکر ہے۔) ۲۳ فروری ۱۹۰۴ء آج پیر افتخار احمد صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا میرے خط کا جواب آیا۔جو حضرت اقدس کی طرف دعاء کیلئے ارسال کیا تھا۔لکھا ہوا تھا۔حضرت صاحب نے دعا کی۔نماز پنجگانہ میں خود بھی دعا کیا کرو۔اور نیز نماز تہجد میں۔خدا فضل کرے گا۔“ بالآخر ۳۰ مارچ کو ڈویژنل انجینئر محکمہ نہر کے دفتر میں آپ پچیس روپے مشاہرہ پر ملازم ہو گئے۔/ ڈائیری کے اقتباسات مذکورہ سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ حضرت اقدس اور قادیان سے آپ کو کس قدر محبت اور تڑپ تھی اور دھیان ہر وقت ادھر ہی رہتا تھا اور آپ کے والد ماجد کی بھی یہی خواہش تھی کہ آپ کو قادیان میں ہی رہنے کا موقع حاصل رہے۔ذیل کے اقتباسات بھی اسی مقصد کے پیش نظر درج کئے جاتے ہیں۔آپ اواخر جولائی ۱۹۰۴ء میں قادیان آئے۔اور ۲۹/ جولائی کو حضرت مسیح موعوڈ گورداسپور سے واپس تشریف لائے۔ملاقات کی اور اگلے روز اہل وعیال کو جموں ساتھ لے گئے۔تین ستمبر ۱۹۰۴ ء کے تحت لکھتے ہیں : آج لاہور بوقت کے بجے دن کے پہنچ کر حضرت صاحب کے لیکچر میں شامل ہوا۔قادیان کی ساری جماعت سے ملاقات ہوئی۔“ م اپریل ۱۹۰۵ء " آج بوقت ۶:۳۰ بجے سخت زلزلہ آیا۔خدا نے اپنے فضل سے بچایا۔کہتے ہیں کہ عرصہ ہوا۔اس سے پہلے کبھی ایسا سخت زلزلہ نہیں دیکھا۔اس شہر میں بھی کئی مکان گر گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ عرصہ بعد آپ قادیان مستقل طور پر ہجرت کر آئے۔اس وقت آپ سرکاری ملازمت میں خلیفہ صاحب ایک بہت مخلص بزرگ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔