اصحاب احمد (جلد 5) — Page 670
722 (نمبر (۳۲) مغربی صحن کے شرقی پھاٹک سے جانب شرق قریباً ہمیں چھپیں فٹ کے فاصلہ پر کھیل کی ایک سیکھی لکڑی نصب تھی۔جس پر چو خودی کی طرف پر لکڑی لگی ہوئی تھی اور اس چر خوی کے چاروں سروں پر کنڈے تھے جس میں سے رسے لٹکائے جاتے تھے اور رسوں سے لٹک کر طلباء چکر لگاتے ہوئے ورزش کرتے تھے۔نصب شدہ لکڑی یا پول پر چڑھ کر رسے لٹکانے کے لئے لکڑی کے ٹکڑے ارد گرد لگے ہوئے تھے جس پر پاؤں ٹکا کر رسے لٹکانے والا اوپر چڑھ سکتا تھا ( از مؤلف ) اس لکڑی کے پول کا ۱۹۰۲ء میں تعلیم الاسلام کالج کے افتتاح کی کارروائی میں ذکر آتا ہے۔اس کے لئے الفاظ لمبا ستون” البدر نے اور لمبی لکڑی کے الفاظ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے استعمال فرمائے جس کی تشریح اصحاب احمد جلد دوم میں خاکسار نے ورزش کی لکڑی سے کی ہے۔(صفحہ ۱۷۵،۱۷۳ متن و حاشیہ) بیان مولوی صاحب) حضرت حافظ نبی بخش صاحب سکنہ فیض اللہ چک کے فرزند شیخ عبد الرحمن صاحب جو حکیم فضل الرحمن صاحب مرحوم مجاہد جنوبی افریقہ سے بڑے تھے۔ہمارے ساتھ مدرسہ میں زیر تعلیم تھے۔۱۹۰۵ء میں جب کہ حضرت مسیح موعود بڑے باغ میں مقیم تھے شیخ عبد الرحمن صاحب طاعون سے بیمار ہو گئے۔وہ بورڈنگ میں رہتے تھے۔بوجہ طاعون اُن کو مشرقی صحن میں ایک چھولداری میں رکھا گیا جو انداز موجودہ کنویں کے پاس لگائی گئی تھی۔شیخ صاحب فوت ہو گئے اور روڑی قبرستان میں دفن کئے گئے یہ کنواں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے بعد بنا ہے۔یعنی شرقی صحن والا۔( از مؤلف ) مشرقی صحن میں کنوئیں کے وسط مقام پر × (ایکس) رقم کیا گیا ہے تا فاصلہ کا علم ہو سکے۔پیمائش از جنوب مغربی کونہ تا جنوبی دیوار (بشمول چوڑائی دیوار یعنی Q تا QA) فاصلہ چوڑائی صحن ساڑھے سترہ فٹ ہے۔نمبر (۳۴) درزی خانہ کا اوپر والا کمرہ بھی بعض دفعہ لیکچروں اور بعض دفعہ کالج کے بورڈروں کی رہائش کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔صفحہ ۲ ۱۸۔بیان حضرت مولوی محمد دین صاحب ناظر تعلیم ربوہ بابت کالج۔پیمائش۔شرقا غربا (اندر سے) پونے اُنیس فٹ (باہر سے) ساڑھے اکیس فٹ شمالاً جنوبا اندر سے )۱۱ فٹ ایک انچ (باہر سے) ساڑھے پندرہ فٹ۔چاروں دیوار میں اس وقت غلافی ہیں اس کی سیڑھیاں نمبر ۲۸ کے قریب تھیں۔( مطابق بیان مولوی عبدالرحمن صاحب) پہلے چوبی ہوتی تھیں۔اور خاکسار مؤلف نے بھی دیکھی ہوئی ہیں ) بعد میں تقسیم ملک سے بہت پہلے پختہ بنادی گئی تھیں۔