اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 665 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 665

۶۷۲ نوٹ۔نمبر 9 کی غربی دیوار اب پختہ کی جارہی ہے۔(نمبر ۱۱۰) بیان مولوی صاحب۔حضور کے زمانہ میں دو کمرے پاتھی خانہ کہلاتے تھے جن میں بورڈنگ کے باورچی خانہ اور تنور کے لئے اُپلے رکھے جاتے تھے یہ دونوں اب موجود نہیں۔ان میں سے ایک کا محل وقوع نمبر 2 کے شمال کی طرف اور دوسرے کاٹی خانہ (نمبر11) کے جنوب کی طرف تھا۔(نمبر ۱۱ تا ۱۳) بیان مولوی صاحب و بھائی صاحب۔ٹیاں ( نمبر۱۱) ڈائیٹنگ ہال ( نمبر ۱۲) باورچی خانہ (نمبر ۱۳) اور نان پز کا کمرہ (۱۴) جس میں تنور ہوتا تھا یہ سب منہدم ہو چکے ہیں۔غلام حسین صاحب جہلمی مرحوم نان پز اور مسیح اللہ صاحب شاہجہانپوری مرحوم باورچی تھے۔ملک غلام حسین صاحب رہتاسی مرحوم دوسرے صاحب تھے جو لنگر خانہ میں نان پر تھے۔(بیان مولوی صاحب ) مجھے یاد نہیں آیا ڈائینگ ہال ، باورچی خانہ اور تنور کا کمرہ حضور کے زمانہ میں تعمیر ہوئے تھے یا بعد میں۔بیان بھائی صاحب ) میں اسی ڈائیٹنگ ہال میں کھانا کھا رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے وصال کی خبر سنی۔اس لئے بھی مجھے بخوبی یاد ہے کہ یہ ڈائیٹنگ ہال اور کچن اور تنور والے کمرے حضور کے زمانہ میں تعمیر ہو چکے تھے۔مسیح اللہ صاحب شاہجہانپوری کا حضور کے سفر جہلم پر جانا مجھے اچھی طرح یاد ہے۔میں بھی اس سفر میں شریک تھا۔بیان مولوی صاحب) ٹیٹیوں کی مشرقی اور شمالی دونوں دیوار میں اندازاً اپنی اولین جگہ پر ہیں کیونکہ نوٹیفائڈ کمیٹی کی ۱۹۳۸ء میں قیام کے بعد گلیوں میں کمی نہیں کی جاسکتی تھی ( ڈاکٹر صاحب کو نمبر ۱۱ تا ۱۴ کے متعلق کچھ یاد نہیں۔مولوی صاحب اور بھائی صاحب نے ان کا یہی محل وقوع بتایا ہے خاکسار نے اپنے زمانہ طالبعلمی قادیان کے آغا ز۱۹۲۲ء سے سالہا سال تک یہ ڈائیٹنگ ہال اور کچن اور تنور کے کمرے اپنی اصلی شکل میں دیکھے ہیں۔چھ سال میں اس بورڈنگ میں مقیم رہا۔ان کے جو دروازے خاکہ میں دکھائے گئے ہیں ان کا مجھے بخوبی علم ہے یعنی نمبر ۱۲ ۱۴۰ کی غربی دیواروں میں ایک ایک نمبر ۱۳ کی شمالی و جنوبی دیواروں میں ایک ایک اور ۱۲ ۱۳ کی درمیانی دیوار مین ایک خاکہ میں نمبر تا والا کی مشرقی دیوار اور نمبر ۱۱ ۱۲ ۱۴۰ کی شمالی دیوار سیدھی کر دی گئی ہیں۔کیونکہ بعد تقسیم ملک کچھ کمی بیشی کے سابقہ دونوں از سر نو تعمیر ہوئے ہیں۔(مؤلف) (نمبر ۱۵، ۱۶) یہ دونوں کو ارٹر بھی جو بالکل خام تھے حضرت مسیح و مہدی کے زمانہ میں تعمیر ہوئے تھے۔خلافت ثانیہ میں افسر مدرسہ مقرر ہونے پر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ان میں رہائش پذیر ہوئے۔پھر یہاں سے باب الانوار والے مکان میں آپ منتقل ہوئے جو بعد میں آپ نے خرید لیا تھا۔