اصحاب احمد (جلد 5) — Page 45
۴۵ چنانچہ میں دوسری طرف گیا تو دیکھا کہ مولوی صاحب ایک کیچڑ والے نالے میں سے گذر کر پار باغ کی طرف جا رہے ہیں۔وہ پہلوان ورے کھڑا اتنے زور سے ہنس رہا تھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے پہلوان نے بتایا مولوی منہاج الدین صاحب کل فلاں مولوی صاحب کے پاس سکندر پور گئے اور ان سے کتابیں لے کر مباحثہ کے لئے تیاری کرنے لگے۔ساری رات ورق گردانی کرتے رہے۔صبح دوسرے مولوی صاحب تہجد کے لئے آئے تو دریافت کیا کہ آپ کیا کر رہے ہیں کہ آپ ساری رات نہیں سوئے۔انہوں نے کہا کہ میں مولوی سرورشاہ صاحب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے حوالے تلاش کرتا رہا ہوں لیکن جس تفسیر کو دیکھا اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی اور وفات دونوں کا ذکر پایا۔اس لئے کوئی قاطع دلیل نہیں ملی۔سکندر پوروالے مولوی صاحب استاذ الکل تھے اور حضرت مولوی سرور شاہ صاحب بھی استاد تھے اور ان کا لڑکا ان سے بھی بڑھ کر تھا۔انہوں نے مباحثہ کے لئے تیاری کرنے والے مولوی کو کہا کہ مولوی سرور شاہ صاحب کے احمدی ہونے کی وجہ سے مجھے آپ سے زیادہ صدمہ ہوا ہے اور مجھے بھی لوگوں نے ان کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے آمادہ کیا ہے لیکن میں نے اس امر سے کنارہ کشی اختیار کی اس لئے کہ مولوی صاحب سارے ضلع کو آگے لگا لینے والے ہیں۔ان سے مباحثہ کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام ضلع کے علماء ان کے آگے آگے بھاگنے لگیں گے اور ان سے جتنی زیادہ باتیں کی جائیں گی اُتنا ہی زیادہ نقصان ہوگا اور علماء کی مٹی پلید ہوگی۔سو پہلوان نے کہا کہ اسی وجہ سے مولوی صاحب مباحثہ کے لئے آپ کے پاس نہیں آئے اور اب آپ کو دیکھ کر بھاگ گئے ہیں۔اس بارہ میں رویا۔حضرت اقدس کی تعبیر اور رویا کا پورا ہونا اس مباحثہ سے قبل آپ نے خواب دیکھا کہ آپ اپنی جائے رہائش سے جو جامع مسجد کے شمالی جانب تھی مسجد کی طرف آ رہے ہیں۔ایک راستہ مسجد کو مکان کی چھتوں پر سے بھی آتا تھا اور دوسرا ساتھ ایک اور تنگ سا راستہ بھی تھا۔آپ پہلے راستہ سے آ رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ پاگل کتوں کے کاٹنے سے جانور پرندے وغیرہ بے تحاشا بھاگ رہے ہیں لیکن یہی گتے مولوی صاحب سے بھاگتے ہیں اور ٹکرا کر گر پڑتے ہیں چنانچہ بغیر کسی گزند کے آپ مسجد میں پہنچ گئے۔حضرت مولوی عبد الکریم نے آپ کو اطلاع دی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہاں کے مولوی آپ پر حملہ کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا اور مولوی بھاگ جائیں گے چنانچہ مذکورہ بالا واقعہ سے یہ خواب اور اس کی تعبیر پوری ہوگئی۔فالحمد للہ علی ذالک