اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 44 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 44

۴۴ کسی گاؤں میں مسجد کی امامت کراتے ہیں۔چھوٹا بھائی عطاء اللہ احمدی نہیں ہوا بلکہ موڑہ شریف کے پیر کا خلیفہ بن گیا تھا۔پھوپھی زاد بھائی کا بیعت کرنا ہم مولوی صاحب کے اعلان بیعت کا ذکر کرنے سے قبل اس سے پہلے کے چند واقعات ذیل میں درج کرتے ہیں۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے اپنی گرہ سے آئینہ کمالات اسلام وغیرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں آپ کے والد صاحب کو بھیجی تھیں اور آپ نے اور آپ کے پھوپھی زاد بھائی سید سرور شاہ صاحب نے پڑھی تھیں۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے اعلانِ بیعت سے قبل کا واقعہ ہے کہ سید سر ورشاہ صاحب نے بواسیر کے مسوں کا علاج کروایا اور کشتہ سم الفار کے زیادہ مقدار میں لگانے سے مقعد گل گئی اور کسی طرح چین نہیں آتا تھا۔مولوی صاحب انہیں ایبٹ آباد لے آئے۔ہسپتال میں کچھ عرصہ علاج ہوا۔اتفاق سے ایک مسلمان ڈاکٹر ہری پور سے شہادت پر ایبٹ آباد آیا۔مولوی صاحب کے کہنے پر اس نے معائنہ کیا اور کہا کہ وہ علاج کر سکے گا۔چنانچہ مریض کو ہری پور لے گئے۔اس بیماری کے دوران میں سید سرور شاہ صاحب نے بعض خواہیں دیکھیں اور اپنی بیعت کا خط مولوی سرور شاہ صاحب سے لکھوا دیا۔علماء پر آپ کے علم کا شدید رعب ایک مولوی کا مباحثہ سے فرار حضرت مولوی صاحب کا علم جس اعلی پایہ کا تھا اور علماء ہمعصر پر جو اثر تھاوہ ذیل کے واقعہ سے ظاہر ہے۔سید سرور شاہ صاحب کے علاج کے لئے آپ ہری پور میں مقیم تھے۔ہسپتال کے قریب ایک پہلوان سے آپ نے دریافت کیا کہ یہ سامنے مولوی صاحب کون ہیں۔اس نے کہا کہ کوٹ نجیب اللہ کے مولوی منہاج الدین ہیں۔جو اپنے تئیں رئیس المناظرین کہتے ہیں اور آپ سے مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔آپ کے دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ نئی بات جو آپ نے اختیار کر لی ہے اس کے متعلق اسی مقام پر کل اسی وقت دس بجے مباحثہ ہوگا۔چنانچہ آپ اگلے روز انتظار کرتے رہے۔مخالف مولوی نہ آئے۔ہری پور بازار کے آخری سرے کے آگے کچھ حصہ خالی ہے اور پھر سکندر پور بازار شروع ہوتا ہے۔ہری پور بازار کی طرف آپ روانہ ہوئے۔وسط میں پہنچ کے دیکھا کہ مولوی صاحب اور اس کے ساتھی آ رہے ہیں لیکن آپ کو دیکھتے ہی واپس مڑے اور بھا گنا شروع کر دیا۔مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں بھی ان کے پیچھے دوڑا۔میرا خیال تھا کہ جامع مسجد میں پہنچے ہوں گے لیکن وہاں سے پتہ لگا کہ وہ ادھر نہیں آئے۔