اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 644 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 644

سے ایک وعدہ ہوتا ہے۔بخلاف علاج کے کہ اس کا قبول کرنا علاج نہیں ہوسکتا تو جب قبول وعدہ بھی عمو م وعدہ ہے تو پھر طرفین سے وعدہ کیوں نہ کیا جائے۔دوم جہاں تک میں نے سوچا ہے یہاں پر طرفین سے وعدہ ہو جاتا ہے۔گو ایک طرف سے اصل مقصود اور صریح ہو۔اور دوسری طرف سے ایسا نہ ہو پر ہے ضرور اس لئے کہ جب خدا وند تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو وعدہ دیا کہ جب تم چالیس راتیں پہاڑ پر آکے رہو گے تب ہم تم کو کتاب دیں گے۔اور حضرت موسیٰ“ نے اس کو قبول کیا تو گویا بالفاظ دیگر آپ نے یہ وعدہ کیا کہ پہاڑ پر آکر چالیس راتیں گزار دوں گا۔پس جب طرفین سے وعدہ ہو سکا۔یا ہو گیا تو اب کسی تاویل اور تکلف کی ضرورت نہیں۔مفسرین نے اَرْبَعِينَ لَيْلَةً و وَاعَدْنَا کا مفعول بہ بنایا ہے۔جس پر یہ معنے کہ ہم نے موسیٰ کو چالیس راتوں کا وعدہ دیا اور چونکہ چالیس راتوں کا وعدہ کرنا درست نہ ہو سکتا تھا لہذا کہا کہ اس کے پہلے لفظ عــطـاء مقدر ہے جو کہ اس کی طرف مضاف ہے یعنی ہم نے موسیٰ کو چالیس راتوں کے دینے کا وعدہ کیا۔اور پھر راتوں کا دینا چونکہ کچھ معنے نہ رکھتا تھا لہذا ابتایا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے موسیٰ سے اس اعطاء اور بخشش کا وعدہ کیا جو کہ چالیس راتوں والی یعنی ان کے گزرنے پر مانی تھی۔اور بعض نے یہ تقدیر نکالی کہ أَمْرًا كائنا في أَرْبَعِينَ لیلة یعنی ہم نے موسیٰ کو ایسے امر کا وعدہ دیا جو کہ چالیس راتوں میں ہونے والا تھا اور بعض نے مواعدہ اربعین نکالی یعنی ہم نے موسیٰ سے وعدہ کیا وہ وعدہ کرنا جو کہ چالیس راتوں میں ہونے والا تھا پر اصل بات یہ ہے کہ یہ سب تقدیر میں واقعہ کے خلاف اور طبیعت کے نا ملائم ہیں۔اصل واقعہ تو اسی قدر ہے جس میں بالکل خلاف نہیں کہ خداوند کریم نے حضرت موسی کو یہ فرمایا تھا کہ اگر تو پہاڑ پر آکر چالیس راتیں رہے تو میں تجھے شریعت کی لوحیں دے دوں گا۔اور حضرت موسیٰ نے کہا کہ میں آکر رہوں گا۔الفاظ اور ترکیب الفاظ خواہ کچھ ہوں پر اصل مطلب یہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خداوند نے شریعت کی لوحیں دینے کا وعدہ فرمایا تھا لیکن مطلق نہیں بلکہ اس شرط پر کہ موسی" پہاڑ پر چالیس راتیں رہیں جیسا کہ ہم آگے بتائیں گے اور حضرت موسیٰ نے اس شرط کو منظور کرلیا تھا۔جو بلفظ دیگر ان کی طرف سے یہ وعدہ تھا کہ میں اس قدر را تیں وہاں آکر رہوں گا تو واقعہ کے لحاظ سے چالیس راتیں خداوند کریم کے وعدہ کی شرط ہے۔اور حضرت موسیٰ کی نسبت وہ چیز ہیں جس کا انہوں نے وعدہ کیا ہے۔اور چونکہ خداوند کریم یہاں صراحتاً اپنا وعدہ ذکر فرماتا ہے لہذا اس کلام میں اربعین لیلہ وعدہ خداوندی کی شرط ہی قرار دینا چاہئے نہ وہ چیز کہ جس کا خداوند کریم نے وعدہ دیا تھا۔پس بجائے اور تقدیر اور تاویلوں کے یہ ترجمہ ٹھیک ہے کہ جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں پر کچھ وعدہ کیا اور جس چیز کا (کتاب کا ) وعدہ کیا تھا اس کو ذکر نہ کر کے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں پر کتاب کے دینے یا اس کے وعدے کا انعام بیان کرنا نظر نہیں کیونکہ وہ آگے آتا ہے بلکہ یہاں پر تو اصل مقصد ان کی گوسالہ پرستی کا ذکر