اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 626 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 626

۶۳۲ مطلق بغیر کسی قید کے ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد قوی روحانیہ ہوتے ہیں۔اور انبیاء اور صوفیاء چونکہ روحانی لوگ ہوتے ہیں لہذا ان کے کلام میں قومی سے مراد قومی روحانیہ ہوتے ہیں۔پس اس قاعدہ کے موافق ان دونوں قولوں کا مطلب یہ ہوا کہ فلاسفر کہتے ہیں کہ قومی جسمانیہ کا مرکز دماغ ہے۔اور انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کہتی ہے کہ قومی روحانیہ کا مرکز قلب ہوتا ہے۔اور ان دونوں میں کوئی تخالف نہیں کیونکہ فلاسفروں نے قویٰ جسمانیہ کا حال بیان کیا ہے اور قومی روحانیہ سے سکوت کیا۔اور اس کی نسبت کچھ بھی نہیں بتایا اس لئے کہ ان کو روحانی قوی سے کچھ سروکار نہیں ہے اور نہ وہ ان کے زیر بحث ہیں۔ان کے زیر بحث فقط جسمانی قوی تھے۔اور ان کی نسبت بتا دیا کہ ان کا مرکز دماغ ہے اور انبیاء نے روحانی قویٰ کا مرکز قلب کو قرار دیا ہے اور قومی جسمانیہ سے سکوت اختیار کیا ہے۔اس لئے کہ ان کے زیر بحث فقط روحانی قوی ہیں۔جن کا حال انہوں نے بیان کر دیا۔اور جسمانی قومی سے چونکہ ان کو کچھ سرور کار نہیں۔لہذا انہوں نے ان کو چھیڑا تک نہیں۔الغرض کہ جن کا مرکز دماغ بتایا گیا ہے۔انبیاء نے ان کے اس مرکز سے انکار نہیں کیا۔اور جن کا مرکز قلب قرار دیا ہے فلاسفروں ان کے لئے قلب کے مرکز ہونے سے انکار نہیں کیا۔اور یہ بالکل صحیح بات ہے کیونکہ جس طرح جسمانیوں کا تجربہ اور مشاہدہ شہادت دیتا ہے کہ قومی جسمانیہ کا مرکز دماغ ہے اسی طرح سب روحانیوں کا تجربہ اور مشاہدہ بالا تفاق شہادت دیتا ہے کہ روحانی قوی کا مرکز قلب ہے اور کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ جس امر کا وہ اہل نہ ہو اس امر کے متعلق اہل مشاہدہ اور اصحاب تجربہ کے تجربہ اور مشاہدہ کا انکار کرے نیز جس طرح یہ امر سیح ہے کہ حس و حرکت کا تعلق پٹھوں سے ہے اور پٹھوں کا مرکز دماغ ہے اسی طرح یہ بھی سچی بات ہے کہ روحانی امور کا تعلق روح انسانی سے ہے اور روح انسانی کا مرکب روح طبی ہے جس کا اصل تعلق قلب سے ہے۔پس اس طریق سے بھی یہی فتویٰ دینا پڑتا ہے کہ یہ دونوں دعوے بجائے خود صحیح ہیں اور ان میں کسی قسم کا تخالف تعارض ہرگز نہیں ہے۔یہاں پر اسی قدر لکھنا کافی خیال کرتا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ کسی دوسرے محل پر اس کی اور توضیح کروں گا اس بحث سے ناظرین یہ فائدہ قاعدہ کلیہ کے طور پر ملحوظ رکھیں کہ جہاں کہیں عقل صحیح اور نقل صحیح میں تخالف دیکھیں وہاں پر جلدی سے کسی ایک طرف کی تکذیب و تغلیط نہ کریں۔بلکہ تو وقف کریں اور ان کے اتفاق اور جمع کی راہ بڑی غور سے تلاش کریں۔اسی قاعدہ قویہ کے ملحوظ رکھنے سے جلد باز لوگوں نے سائنس کے دباؤ کے نیچے آکر مذہب بلکہ صحیح اور قولی مذہب کو جواب دے دیا ہے اور اگر وہ اس قاعدہ کو اپنا دستور العمل بناتے تو اول ضرور ان پر تطبیق کی راہ کھل جاتی اور نہ کم از کم اس شدید ٹھوکر کے شکار جادوانی ہونے سے بچ جاتے۔اور اپنی جلد بازی سے ہلاکت کے گڑھے بلکہ سیاہ گڑھے میں نہ گرتے۔