اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 623 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 623

۶۲۹ بان کی مانند ہوتا ہے۔یعنی اس میں نو رایمان نہیں رہتا بلکہ نکل جاتا ہے۔رفع اختلاف غرضیکہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر دونوں مذہبوں میں اس طرح رفع نزاع کیا ہے کہ بتا دیا کہ جو کہتے ہیں کہ ایمان کم و بیش ہوتا ہے انہوں نے ایمان اخروی کے دوسرے معنے لئے ہوئے ہیں۔اور جن معنوں کے لحاظ سے پہلے مذہب والے کم و بیش ہونے کا انکار کرتے ہیں دوسرے مذہب والے بھی ان کے لحاظ سے کم و بیش ہونے کے قائل ہیں اور جن کے رو سے دوسرے مذہب والے کم و بیش ہونے کے قائل ہیں۔ان کے لحاظ سے پہلے بھی ان کے منکر نہیں۔۔۔میں نے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کا قول نقل کر کے ناظرین کو بتا دیا کہ ایمان کے چار معنے ہیں تو اب ناظرین پر کوئی اشکال باقی نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ خود ہر ایک حدیث میں وہ ایمان لے سکتے ہیں جس کا حال اس حدیث میں مذکور ہوگا۔مثلاً جس حدیث میں آیا ہے کہ فلاں فلاں کام کرنے کے وقت انسان مومن نہیں رہتا بلکہ ایمان اس سے نکل کر سایہ بان کی مانند اس کے اوپر ہوتا ہے۔اور اس کے چھوڑنے پر پھر لوٹ آتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں وہ ایمان مراد ہے جو کہ بمعنے سکینتہ اور نور ایمان کے ہے۔اسی طرح جس حدیث میں آیا ہے کہ ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں تو ظاہر ہے کہ اس میں وہ ایمان مراد ہے کہ جس میں اعمال و اخلاق داخل ہیں ورنہ موذی چیز کے راستہ سے دور کرنے اور حیا کے خلق کی شاخیں بننے کے کیا معنے ہو سکتے ہیں۔پس یہ بالکل سچی بات ہے کہ ان احادیث میں ایمان کے ایک ہی معنے نہیں لئے گئے۔بلکہ ایک میں ایک لئے گئے ہیں اور دوسرے میں دوسرے۔ایمان و اسلام کے معانی میں نزاع لفظی ناظرین پر یہ خفی نہ رہے کہ علماء میں یہ بھی اختلاف ہوا کہ ایمان اور اسلام ایک ہی ہیں یا جدا جدا ہیں۔اور دونوں فریق نے اپنے اپنے دعوے کے اثبات میں بہت زور دیا ہے لیکن چونکہ فریقین محققین سے ہیں جیسے حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت امام شافعی اور ائمہ حدیث لہذا میرے خیال میں یہاں پر بھی نزاع حقیقی نہیں بلکہ لفظی ہے۔یعنی ایمان اور اسلام کے معنے میں سے بعض نے کچھ معنے لے کر کہہ دیا کہ دونوں ایک ہی ہیں۔اور بعض نے اور معنی لے کر کہ دیا ہے دوسرے بھی ان کے لحاظ سے تغائز کے قائل نہیں ہیں اور جن کے لحاظ سے بعض نے ان میں تغائز کا قول کیا ہے۔ان کے لحاظ سے دوسرے اتحاد کے قائل نہیں۔پس فریقین میں