اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 615 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 615

۶۲۱ کے قائل ہونے سے چارہ نہیں اور جب عموم ہے تو پھر کوئی اعتراض نہیں۔ہاں اب یہ بات قابل غور ہے کہ هُدًى لِلْمُتَقِيْنَ۔اور لِلْمُحْسِنِيْنَ۔اور لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔میں بظاہر تخصیص تو ضرور ہے تو جب هُدًى لِلنَّاسِ میں تقسیم ہے اور وہی مراد ہے تو ان آیات کریمہ میں تخصیص کیوں کی ہے جو کہ عموم کے خلاف ہے تو اس کا جواب یہ دیا ہے کہ تمیم تو نفس دعوت کے لحاظ سے ہے اور تخصیص محض فائدہ کے رو سے ہے۔یعنی قرآن مجید سب کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا گیا ہے لیکن رہا یہ کہ اس سے فائدہ کون اٹھائیں گے اور کون لوگ اس کی ہدایت پر چلیں گے تو خداوند علیم نے ان آیات میں یہ بتادیا کہ فائدہ خاص خاص متقیوں ،محسنوں ،مومنوں کو ہی ہوگا۔اور یہاں پر اس امر کا قرینہ بھی موجود ہے کہ تخصیص دعوت کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ فائدہ کی رو سے ہے اور وہ یہ ہے کہ متقیوں کے بیان کے آگے خداوند کریم نے فرمایا ہے اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ اءَ نُذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔پس اگر دعوت عام نہ ہوتی تو غیر متقیوں کے لئے عذاب عظیم کا کیوں وعید ہوتا۔کیونکہ اس صورت میں وہ تو مکلف ہی نہیں ٹھہرتے تو جب مکلف ہی نہ ہوئے تو نہ ماننے سے عذاب عظیم کیا۔اس کے بعد منافقوں کا حال بیان کرتے ہوئے بھی فرمایا کہ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمُ لا يَرْجُونَ۔۔۔۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ منافقوں کو بھی اس کتاب کی ہدایت سے کچھ فائدہ نہیں پہنچا لہذا ثابت ہوا کہ هُدًى لِلْمُتَقِینَ میں ( جو کہ ان دونوں کے مقابل پر ہے ) ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس کتاب کی ہدایت سے فائدہ اٹھائیں گے تو پھر یہ تخصیص محض فائدہ اٹھانے کے لحاظ سے ہے نہ نفس دعوت کے لحاظ دوسرے جواب پر عدم اطمینان یہ جواب (۲) اگرچہ پہلے کی نسبت بہت سے تکلف پر مشتمل نہیں اور فی نفسہ صحیح اور کافی ہے لیکن اس میں اس قدر نقص ضرور ہے کہ هُدًى لِلْمُتَقِيْنَ اور هُدًى لِلنَّاسِ ایک ہی طرز کے دو جملے ہیں۔اور اس جواب میں ان دونوں میں یہ فرق رکھا ہے۔(جو اوپر بیان ہوا ہے۔ناقل۔۔۔پس با وجود دونوں فقروں کے یکساں ہونے کے ان دونوں میں فرق کرنا اطمینان خاطر کے خلاف ہے اور جو جواب اس فرق پر مبنی ہے وہ بھی تسلی بخش نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ان دونوں جوابوں کی حالت یہ تھی جو ناظرین کی خدمت میں عرض کر دی ہے۔لہذا میرے دل میں بہت شوق تھا کہ اصل اعتراض کا کوئی عمدہ جواب ہاتھ آئے۔چنانچہ میں نے بہت سے اہل علم سے دریافت بھی کیا اور بہت سی تفسیروں کو بھی دیکھا مگر ہاتھ میں کچھ نہ آیا۔لیکن دسمبر ۱۹۰۵ء کو دارالامان میں سالانہ