اصحاب احمد (جلد 5) — Page 36
۳۶ پر اسے دیکھنے کا ارادہ کیا اور اس کی آواز سے یہ خیال اور بھی زیادہ ہوا اور بہت جلدی مڑ کر دیکھا لیکن وہ غائب ہو گیا اور آپ اسے دیکھ نہ سکے۔اس کے بعد بیدار ہو گئے۔یہ خواب بہت صاف تھا مگر اس وقت دینی علم نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے خیال کیا کہ اپنے استاد سے تعبیر دریافت کروں کہ وہ تعبیر اچھی کرتے ہیں۔صبح سبق شروع کرنے سے قبل آپ نے خواب سنایا تو انہوں نے کہا کہ بس اس کی تعبیر یہی ہے کہ وہ گمراہ ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ آپ خواب کو ہنسی میں ثلاتے ہیں۔سنجیدگی سے اس کی تعبیر بتائیں لیکن وہ اس بات کو دوہراتے رہے۔آپ کے لئے ابتلاء مقدر تھا اسی اثناء میں کہ آپ تعبیر کو بنی سمجھ رہے تھے مولوی محمد الدین جو حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ کا پتا دیا کرتے تھے وہ بھی اس سبق میں شریک ہونے والے تھے لیکن ابھی آئے نہیں تھے وہ بھی آگئے اور انہوں نے کھڑے کھڑے کہا کہ شاہ صاحب ! آپ کے وہ مولوی صاحب آگئے ہیں اور ان کا چینیاں والی مسجد میں وعظ ہو گا۔لوگ جمع ہیں اور واعظ شروع ہونے والا ہے۔شاید آپ کے جانے تک شروع ہو جائے۔استاد نے کہا دیکھو میری بات کی تصدیق ہو گئی کہ وہ یہی لوگ ہیں اور نور الدین ہی نے مرزے کو بھی گمراہ کیا ہے۔مولوی سرور شاہ صاحب اجازت لے کر مسجد چینیاں والی میں پہنچے۔اس وقت حضرت مولوی صاحب وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّاب * والا رکوع پڑھ رہے تھے۔اس دن پُرانے رواج کے مطابق پہلے ہی آپ کو یہ بات گراں معلوم ہوئی کہ حضرت مولوی صاحب نے حمائل ایک ہاتھ میں درمیان میں انگوٹھا ڈال کر پکڑی ہوئی ہے اور بعض وقت قرآن مجید والا ہاتھ پیٹھ کے پیچھے بھی چلا جاتا ہے۔مولوی صاحب کو خیال ہوا کہ آپ قرآن مجید کا ادب نہیں کرتے۔نیز آپ نے سارے رکوع کے نئی طرز کے معنے کئے اور آخر پر فرمایا کہ آپ لوگ تعجب کرتے ہوں گے کہ یہ وہی نورالدین ہے جس سے پہلے بھی ہم قرآن مجید سنتے رہے ہیں لیکن ان میں یہ معارف بالکل نہیں ہوتے تھے۔مگر اب یہ ایسے نئے معارف بیان کر رہا ہے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ وہی معارف ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے لیکن یہ معارف مجھے خدا تعالیٰ کے مسیح کے طفیل ملے ہیں جس کو میں نے قبول کیا ہے۔حضرت مولوی صاحب کے الفاظ سے آپ نے یہ مفہوم سمجھا کہ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو معارف دیئے گئے تھے وہی ان کو بھی مل گئے اور اسے ایک بڑا دعوی خیال کر کے آپ نے سمجھ لیا کہ میری خواب کی یہی تعبیر ہے اور استاد کی بیان کردہ تعبیر صحیح ہے۔چنانچہ اس ابتلاء کی وجہ سے دعا اور تحقیق آپ سے چھوٹ گئی۔ل صفحه ۲۸ تا ۳۰