اصحاب احمد (جلد 5) — Page 534
۵۴۰ ۲- دارا مسیح میں قیام حضور نے خود طاعون کے دنوں میں اپنے گھر میں بلایا۔“ روایت مذکور متن ۱۹۳۵ء میں آپ نے لکھوائی جبکہ نظارت تعلیم وتربیت نے انتظام عید کے لئے فہرست بقیہ حاشیہ: - اعلان بیعت کے اگلے روز ہی ایبٹ آباد کو ترک کر کے پشاور چلے گئے تھے۔اس لئے ان تمام بیانات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کی بیعت ۶ فروری تا ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کے مابین عرصہ کی ہے۔اور خاکسار پہلے بھی اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ بیعت ۶ / مارچ ۱۸۹۷ ء سے پہلے قریب کے عرصہ کی ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی ذَالِک۔(الف) چونکہ آپ اپریل یا مئی ۱۹۰۱ء میں ہجرت کر آئے تھے ( جیسا کہ سابقہ اوراق میں راقم ثبوت فراہم کر چکا ہے ) اس لئے بیان مندرجہ متن سے یہ معلوم ہوا کہ آپ تیسری بار موسمی تعطیلات میں ۱۹۰۰ء میں قادیان آئے تھے۔(اور اس سال جولائی میں آنا مرقوم ہے۔الحکم ۱۶ جولائی زیرہ دارالامان کا ہفتہ ) یہ سال اس لئے بھی متعین ہوتا ہے کہ آپ بیان کرتے ہیں کہ تیسری دفعہ موسمی تعطیلات میں آنے پر آپ نے دیوار تعمیر شدہ لکھی اور اپریل یا مئی ۱۹۰۱ ء میں آپ ہجرت ہی کر آئے تھے اس لئے ہر سہ زیارتیں اس سے قبل کے سالوں کی موسمی تعطیلات میں ہی ممکن ہیں ) اور یہ دیوار ۵ جنوری ۱۹۰۰ء کو تعمیر ہوئی۔اور ۱۰ اگست ۱۹۰۱ ء کو اس کے گرانے کا عدالت نے فیصلہ دیا تھا۔(ب) حضور کا آپ کو خاص فیضان کے قابل پانے کا اظہار کرنا بھی ۹۰۰اء والی آمد کے دوران کا واقعہ ہے۔( یہ واقعہ حصہ اول صفحہ ۶۳ تا ۶۶ میں مرقوم ہے) (ج) دوسری بار آپ قادیان گویا ۱۸۹۹ء میں آئے۔(1) پہلی بار گویا آپ کو زیارت قادیان کا موقع ۱۸۹۸ء میں موسمی تعطیلات میں ملا۔(ھ) چونکہ پہلی بار آپ اہلیہ اول کی وفات کے بعد آئے تھے تو معلوم ہوا کہ وہ بھی موسمی تعطیلات میں یا اس سے قبل قریب میں فوت ہوئی ہوں گی۔بحوالہ حصہ اول معلوم ہوتا ہے کہ وہ کافی عرصہ سے بیمار تھیں۔اس لئے آپ ان کی وجہ سے قادیان نہیں آسکتے تھے۔(صفحہ ۶۱) (و) بوقت وفات اہلیہ اول آپ کی صاحبزادی صاحبہ (بعدہ زوجہ سید محمود اللہ شاہ صاحب) کی عمر دس ماہ تھی اور صاحبزادی موصوفہ ۲۸ جولائی ۱۹۲۳ء کو فوت ہوئیں اس لئے ان کی عمر پچیس سال کے قریب ہی نکلتی ہے نہ کہ پینتیس سال جیسا کہ کسی غلطی سے کتبہ پر مرقوم ہے۔