اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 521 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 521

۵۲۶ جس مکان میں آپ۔اپنا مکان آخری عمر میں خرید لینے سے قبل رہائش رکھتے تھے وہ مدرسہ کے ساتھ ملحق اور بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے شمالی حصہ میں باورچی خانہ کے متصل جانب مغرب دو کچی کوٹھڑیاں ہیں جن میں یہ لعل بے بہا سالہا سال تک رہا اور اف تک نہ کی۔اگر دیگوں کی دن رات کھڑ کھڑ۔باورچی خانہ کی لکڑیوں اور ہندوستانی اپلوں کے دھوئیں باورچیوں کے شور، بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے بورڈروں کا شورا ور کھیلیں۔دن کے وقت مدرسہ احمدیہ کے طالب علموں کا بھی شور، مدرسہ احمدیہ کے صحن میں رات دن جنازوں کی آمد ورفت کے نظارہ کو سامنے لایا جائے اور پھر اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ عملاً آپ اور آپ کے اہل بیت صرف ایک ہی کچی کوٹھڑی میں رہتے تھے۔کیونکہ دوسری کوٹھڑی میں آپ کا کوئی نہ کوئی شاگرد جوسر حد یا کشمیر وغیرہ کا باشندہ ہور ہا کرتا تھا۔تو آپ اور آپ کے اہل بیت يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ “ کا مصداق ثابت ہوں گے اور یہ حقیقت ایک آفتاب بن کر سامنے آجائے گی کہ یہ لعل بے بہا صرف اور صرف اپنے محب ومحبوب آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیر معمولی قوت جذب کی وجہ سے ہی اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر کے اور ساری عزتوں کو جو سادات کے لئے ان کے آبائی وطنوں میں موجود ہوتی ہیں۔لات مار کر اپنے محبوب کے دروازے پر بڑی خوشی سے ” دھونی رمائے بیٹھا ہے الصفة اے محبت تو عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرهم به ره یار تو یکساں کردی ہمارے خداوند پاک نے اپنے مسیح پاک کو الہاما کیا خوب فرمایا؛ أَصْحَبُ الصَّفَةِ وَمَا أَدْرَكَ مَا أَصْحَبُ - ☆ آپ کی زندگی نہایت سادہ تھی۔لباس عموماً بند گلہ کا کوٹ ( جسے پنجابی شیروانی کہتے ہیں ) اور اس پر بسا اوقات جبہ۔کلاہ دار پگڑی، پاجامہ اور گر گابی پہنتے تھے لیکن تکلف یا کبریا نہ لباس میں تھا نہ طبیعت میں ! اپنے بچوں کے متعلق فرماتے تھے کہ ہمارے خاندان کا یہ طریق ہے کہ بڑے ہو کر اچھے ہو جایا کرتے ہیں۔اپنے بڑے صاحبزادہ سید ناصر احمد شاہ صاحب کو آپ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں تعلیم دلائی تھی اور چھوٹے صاحبزادہ سید مبارک احمد شاہ صاحب کو مدرسہ احمدیہ میں داخل کیا تھا۔اثنائے اقامت ربوہ تذکر طبع ۲۰۰۴ء ( صفحه ۵۴،۱۹۷)