اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 511 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 511

۵۱۶ یہ مسئلہ خاص دلچسپی کا موجب بن گیا تھا۔استاذی المکرم حضرت مولوی صاحب نے مجھے اس کے متعلق تحقیق کرنے کا ارشا د فر مایا اور میں نے آپ کی خدمت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد پیش کیا کہ سوائے ان دعاؤں کے جو قرآن شریف میں ہیں اور وہ دعائیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں اور کوئی دعا امام الصلوۃ اپنی زبان میں بالجبر ( بلند آواز سے ) نہیں کر سکتا۔اس پر آپ بہت خوش ہوئے اور پھر وقتا فوقتاً مجھے استفسارات کا جواب لکھنے کی سعادت عطا فرماتے رہے۔فَجَزَا اللَّهُ أَحْسَن الجَزَاء مبلغین کلاس میں اثناء تدریس آپ ہمیں بعض ایسے امور کی طرف بھی توجہ دلایا کرتے تھے۔جو من حیث المجموع ہماری لئے ضروری مفید اور ہماری علمی ترقی کا موجب ہوں۔چنانچہ ایک دفعہ فرمایا۔میاں ( آپ اپنے شاگردوں کو کلاس میں عموماً اسی لفظ سے مخاطب فرمایا کرتے تھے ) ایک مبلغ صرف مبلغ ہی نہیں ہوا کرتا۔وہ اپنی جگہ پر مفسر بھی ہوتا ہے۔وہ محدث بھی ہوتا ہے اس لئے ان سب علوم کی اسے پوری واقفیت ہونی چاہئے۔اگر وہ واقفیت حاصل نہیں کرے گا تو اگر اس سے کوئی کسی آیت کی تفسیر پوچھے گا یا کسی حدیث کا مطلب یا کوئی مشکل مسئلہ پیش کر کے اس کا حل چاہے گا تو وہ کیا کہے گا کہ میں تو مبلغ ہوں مرکز کو لکھتا ہوں۔وہاں سے جواب آنے پر بتلاؤں گا اور خدا جانے کہ وہ مرکز سے کتنی دور ہو۔اور جواب اس کو وقت پر پہنچ بھی سکے یا نہ پہنچ سکے۔“ آپ کا یہ ارشاد آب زر سے لکھنے کے قابل ہے اور اگر دینی امور میں بخل جائز ہوتا تو میں یہ بات کبھی بھی یہاں نہ لکھتا۔آپ کے اس ارشاد نے مجھے اس قدر فائدہ دیا ہے کہ میں وہ الفاظ نہیں پاتا۔جن سے آپ کا شکر یہ ادا کر سکوں۔صرف یہی کہتا ہوں اَللَّهُمَّ اجْزِهِ عَنَّا أَحْسَنَ الْجَزَاءِ وَارْفَعُ دَرَجَاتِهِ بِالْجَنَّةِ ہاں نہ صرف یہ کہ کتابی علوم اور نظارت تعلیم و تربیت صدر انجمن احمد یہ قادیان کے مقرر کردہ نصاب کا پڑھانا آپ کا مح نظر یا مقصود نہ ہوتا۔بلکہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی روایات اور خاص امتیازات کا بھی آپ کو خاص خیال رہتا تھا۔اثناء تدریس کبھی آپ فرماتے۔”میاں ! اب صرف سرور شاہ ہی ایک ایسا آدمی باقی رہ گیا ہے جس کے پیچھے اس دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمازیں پڑھتے رہے ہیں۔اور اس بات کے بیان کرنے کے وقت آپ کا چہرہ خوشی سے گلاب کے پھول کی طرح سرخ نظر آیا کرتا تھا۔ایں تا سعادت بزور بازو نیست بخشد خدائے بخشنده