اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 510 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 510

۵۱۵ دریغ کیا ہو یا آپ اپنے کسی شاگرد یا ما تحت کارکن کی کوئی کسی قسم کی بھلائی کر سکتے ہوں اور آپ نے اس میں تخلف کیا ہو۔جب میری تالیف کردہ اسلام کی پہلی کتاب اور اس کے بعد اسلام کی دوسری کتاب شائع ہوئی تو آپ نے ایک دن خود اخویم مکرم مولوی عنایت اللہ صاحب مرحوم و مغفور ( مالک نصیر بک ایجنسی قادیان ) کو جنہوں نے انہیں شائع کیا تھا۔فرمایا کہ مولوی صاحب مجھے اسلام کی پہلی اور دوسری کتاب لا کر دینا، میں ان پر تبصرہ لکھ کر دوں گا۔چنانچہ انہوں نے دونوں کتابیں آپ کی خدمت میں مسجد مبارک میں پیش کیں اور آپ نے مسجد مبارک میں ہی ملا حظہ فرما کر بیٹھے بیٹھے جبکہ آپ حسب دستور نماز با جماعت کا انتظار کر رہے تھے ، تبصرہ لکھ کر مولوی عنایت اللہ صاحب کو عنایت کر دیا اور یہی وہ حوصلہ افزائی کی روح ہے جس سے نو جوان ترقی کی طرف جلد جلد قدم بڑھا سکتے ہیں۔فَجَزَاهُمَا اللهُ اَحْسَن الجَزَاء اور ہماری کلاس کا تو آپ کو خاص خیال رہتا تھا اور ہم سے ایسی محبت و شفقت اور عزت کے ساتھ پیش آتے تھے کہ آپ پر جاں شمار کرنے کو دل چاہتا تھا۔آپ کے منہ سے کبھی کوئی لغو کلمہ یابات سننے کا اتفاق نہیں ہوا۔اور نہ آپ کا کوئی شاگرد بوجہ آپ کی غیر معمولی خدا داد عزت اور ہیبت تقویٰ کے آپ کے ساتھ بے تکلف دیکھا گیا بلکہ کلاس میں بھی کوئی سوال و جواب کرتے نہیں دیکھا گیا۔اور الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدَب پر خود بخود عمل ہوتا تھا۔فَسُبْحَانَ اللَّهِ أَحْسَنِ الْخَالِقِينَ ۱۹۲۹ء میں علامہ حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ وارضاہ کی وفات کے بعد مفتی سلسلہ احمدیہ کا منصب بھی ، حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے آپ کو عطا فرما دیا گیا تھا۔اس لئے آپ ان ایام میں جب ہم آپ سے مبلغین کلاس میں تعلیم پاتے تھے جو مسائل بغرض استفتاء آتے ہمیں بھی یہ کام سکھلانے کے لئے یا بہ لفظ دیگر تعلیم دینے کے لئے بغرض جواب عطا فرماتے۔اور ساتھ ہی راہنمائی بھی فرماتے اور کہتے۔”میاں !فلاں کتاب دیکھ لینا اور اس کے بعد جواب لکھ کر مجھے دینا۔سبحان اللہ کیا نیک روح تھی۔پھر جب جواب لکھ کر پیش کیا جاتا اور آپ اسے بغور ملاحظہ فرماتے اور وہ درست ہوتا تو آپ بہت خوشی کا اظہار فرماتے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تعلیم دینے اور وسعت نظر پیدا کرنے کا یہ بھی ایک نہایت عمدہ طریق ہے کہ شاگرد اپنے استاد کی راہنمائی اور نگرانی میں بھی کام کر کے تجربہ حاصل کرے۔انہی ایام میں جب ہم جامعہ احمدیہ کی مبلغین کلاس ( درجہ ثالثہ ورابعہ ) میں تعلیم پاتے تھے یہ مسئلہ بھی زیر بحث تھا کہ کیا امام الصلوۃ جب اپنے مقتدیوں کو نماز پڑھا رہا ہو۔اثناء نماز اپنی زبان میں بلند آواز سے دعائیں بھی مانگ سکتا ہے؟ چونکہ ہمارے محلہ دار الرحمت میں حضرت حافظ صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے رضی اللہ عنہ سابق مبلغ ماریشس امام الصلوۃ تھے اور وہ ایسی دعا ئیں بھی نماز میں جماعت کرواتے وقت بلند آواز سے کرتے تھے۔یا الہی ہمارے تمام امتحان دینے والے طالب علموں کو امتحان میں کامیاب کر دے وغیرہ وغیرہ۔اس لئے