اصحاب احمد (جلد 5) — Page 503
۵۰۸ ۱۹۲۷ء تک آپ مدرسہ قادیان کے مینیجر رہے۔ان دنوں آپ کا مکان بھی مدرسہ احمدیہ کے احاطہ میں بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے سامنے بجانب شمال بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے باورچی خانہ کے ساتھ ملحق دو کچی کوٹھڑیاں تھیں۔جہاں سے آپ مدرسہ احمدیہ میں پڑھانے یا نمازوں کے لئے مسجد میں جانے کے لئے تشریف لاتے تھے۔اور ہم بوجہ مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پانے کے اکثر آپ کو دیکھتے تھے دائیں بائیں جھانکنا آپ کا طریق نہ تھا۔ایسے معلوم ہوتا تھا کہ آپ کسی کی طرف دیکھتے نہیں گو بچپن کی عمر بے پرواہی کی عمر ہوتی ہے مگر اس وقت بھی ہم ( طلباء مدرسہ احمدیہ ) آپ کو کسی طرف سے آتے ہوئے دیکھ کر آپ کی بزرگی کے احساس کے باعث بالکل خاموش ہو جاتے تھے۔۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے سفر یورپ سے واپس آنے اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد ۱۹۲۸ء میں مدرسہ احمدیہ کی مولوی فاضل و مبلغین جماعتوں کو الگ کر کے جامعہ احمدیہ قائم کر دیا اور آپ کو جامعہ احمدیہ کا پرنسپل مقرر فرما دیا۔اور آپ ریٹائر ہونے تک اسی عہدہ پر سرفراز رہے۔جامعہ احمدیہ کے قائم ہونے کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دی۔اور آپ نے اپنا پختہ مکان دارالانوار کی طرف جانے والی سڑک پر خرید لیا اور مدرسہ احمدیہ کے کچے کوٹھوں سے اس میں منتقل ہو گئے۔چونکہ آپ مدرسہ احمدیہ میں اعلیٰ جماعتوں کو ہی پڑھایا کرتے تھے۔اس لئے مدرسہ احمدیہ میں ہمیں آپ سے کچھ پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔۱۹۲۹ء میں ہم بھی مدرسہ احمدیہ سے ساتویں جماعت پاس کر کے جامعہ احمدیہ میں پہنچ گئے۔اور مولوی فاضل کلاس کا پہلا سال (درجہ اولی ) پاس کر کے آج سے بتیس سال قبل ۱۹۳۰ء میں براہ راست آپ کی شاگردی میں داخل ہوئے۔مولوی فاضل کے اس درجہ ( ثانیہ ) میں آپ ہمیں منطق و فلسفہ پڑھایا کرتے تھے۔اس زمانہ میں مولوی فاضل کلاس ایک پین یا پل صراط ہوا کرتی تھی۔جہاں یک سالہ، دو سالہ ، سہ سالہ اور چہارم سالہ طالب علم بھی موجود ہوتے تھے کیونکہ نصاب مولوی فاضل یا پنجاب یونیورسٹی کے مخنین اصحاب ہی کچھ ایسے واقع ہوئے تھے کہ کسی طالب علم کا پہلے سال کامیاب ہو جانا ایک غیر معمولی اتفاقی بات سے کم شمار نہیں کیا جاتا تھا۔مولوی فاضل کلاس پہلے سال میں ہمارے منطق و فلسفہ کے استاد حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل مرحوم اور حضرت مولوی ارجمند خان صاحب فاضل تھے۔مدرسہ احمدیہ میں تو گزشتہ سات سال کے عرصہ میں اس کا ایک حرف بھی نہ پڑھا تھا۔اب جامعہ احمدیہ میں آتے ہی اس کی دلدل میں پھنس گئے۔ہمارے مولوی فاضل کے امتحان میں فیل ہونے والے اکثر نوجوان طالب علم منطق وفلسفہ اور انشاء ( جواب مضمون به زبان عربی کے ) مضامین میں ہی فیل ہوتے تھے۔انشاء میں کامیاب ہونے کا زیادہ تر انحصار صرف ونحو اور علم