اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 477 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 477

۴۸۲ چھوٹی عمر میں خدمات جلیلہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر خاص الخاص فضل تھا کہ نسبتاً بہت کم عمر میں آپ کے علم کا لوہا مانا گیا۔قریباً بیس سال کی عمر میں آپ نے دیوبند کی درسگاہ میں امتحان دیا۔سہارنپور کے مدرسہ مظاہرالعلوم کے منطق وفلسفہ کے ایک استاد چونکہ الگ ہو گئے اور ایک مسجد میں انہوں نے درس تدریس شروع کر دی اور وہ اتنے قابل تھے کہ مدرسہ اجڑ گیا اور اس کو آباد رکھنے کا فکر ہوا۔اور ایسے قابل اور ماہر فن استاد کی ٹکر کی شخصیت مجلس منتظمہ اور اساتذہ کو حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب نظر آئی۔اور وعدہ کیا گیا کہ بعد امتحان ان کو بھجوا دیا جائے گا۔حالانکہ آپ نہایت کم عمر نو جوان تھے آپ کسی تجربہ سے بے بہرہ تھے لیکن آپ کے اساتذہ و مجلس منتظمہ نے اس گوہر نایاب کی شناخت کی اور آپ نے ہیں اکیس سال کی عمر میں ایسے قابل و ماہرفن استاد کو مات دکھائی جس سے مظاہر العلوم کے تمام اساتذہ عاجز آچکے تھے اور آپ اس ادارہ کی ازسرنو آبادی کا موجب ہوئے۔اندازاً ۱۸۹۶ء میں جبکہ آپ کی عمر صرف ۲۳ سال کی تھی ایبٹ آباد کے علماء آپ کے علم کا سکہ مانتے تھے اور آپ سے حقیقہ بھاگتے تھے۔1900ء میں جبکہ آپ کی عمر ستائیس سال کی تھی۔حضور نے اپنی فراست سے آپ کو خاص فیضان کے قابل پایا۔ایک دفعہ آپ کے علم کی بھی تعریف کی تھی۔۱۹۰۲ء میں جبکہ آپ کی عمر صرف انتیس سال کی تھی کہ علماء ندوہ کے لئے ایک وفد میں اور مد والے نہایت ہی اہم مباحثہ کے لئے آپ کو حضور نے بھجوایا۔۱۹۰۵ء میں بعمر بتیس سال آپ مسجد مبارک کے امام الصلوۃ اور خطیب جمعہ مقرر ہوئے اور اگلے سال جبکہ آپ کی عمر صرف تینتیس سال کی تھی حضور کے عہد مبارک میں ہی آپ کی تفسیر کا مقام نہایت مستند قرار پانے لگا اور اس کے شائع کرنے کے لئے خاص طور پر ایک رسالہ کا اجراء عمل میں آیا۔و ذالک فضل الله يؤتيه من يشاء ذیل میں بعض متفرق حوالے سے بھی پیش کئے جاتے ہیں۔(۱ تا ۳) رسید ز ر چار روپے آٹھ آنے۔ایک روپیہ۔دو روپے چار آنے ( بدر ۰۶-۳-۹ صفحه ۱۰اک ۳) (۲۶-۴-۰۶ صفحه ۶ ک ۲) ۰۶-۵-۱۷ صفحه ۶ ک۲) صرف ”سید سرور شاہ صاحب ان مقامات پر مرقوم ہے۔مقام درج نہیں اس لئے یہ تعین نہیں ہوسکتا کہ آپ اور میر جی سید سرور شاہ صاحب دونوں میں سے کس کا ذکر ہے۔(۴) ایک حادثہ سے بچ جانا ( الفضل ۱۲-۷-۲ مدنیتہ اسی ) (۵) قادیان کی ترقی کے تعلق میں نو تعمیر شدہ مکانات میں ذکر ہے کہ آپ بھرتی ڈلوانے کا کام شروع کر چکے ہیں۔( تشحذ الاذہان بابت اکتوبر ۱۹۱۶ء صفحه ۵۲) آپ کی اہلیہ محترمہ بتلاتی ہیں کہ لنگر خانہ کے سامنے جانب شرق