اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 465 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 465

فرماتے تھے کہ مرض الموت میں میں نے جو خدمت حضرت خلیفہ اول کی کی تھی اس کی تعریف کرتے ہوئے حضور کے آنسو جاری ہو گئے تھے۔دورہ ہند حضرت خلیفہ المسیح اول نے جب حضرت صاحبزادہ مرزامحموداحمد صاحب کو مدرسہ احمدیہ کاہیڈ ماسٹر مقرر کیا تو میاں صاحب سے کہا کہ اس کام کو کامیاب طور پر چلانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ہندوستان کے مدارس کا دورہ کریں اور کچھ سوالات بھی بتائے اور رفقاء سفر بھی تجویز کئے۔فرماتے تھے۔محترم میاں صاحب کی امارت میں ایک وفد روانہ ہوا۔کانپور میں رشید رضا ایڈیٹرالمنار مصر سے ملاقات کی۔میاں صاحب نے وہاں ایک پبلک تقریر کی جو کہ بے نظیر تھی اور لوگ اس سے حیران ہوئے۔مولانا شبلی اور مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ علماء سے ملاقات ہوئی ان میں سے بعض احدیت کے سخت خلاف تھے۔احمدیت اور تعلیم وغیرہ مختلف امور پر گفتگو ہوتی تھی۔مولویوں سے بالعموم حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم گفتگو کرتے۔مولانا شبلی صاحب سے حضرت میاں صاحب نے خود گفتگو کی۔مولانا احمدیت کی بعض باتوں کی تعریف بھی کرتے تھے اور بعض باتوں کی مخالفت بھی کرتے تھے۔انہوں نے سنایا کہ طلبہ کو نمازوں کی پابندی وغیرہ کے متعلق میں نے نصیحت کی۔میں نے دیکھا کہ صرف ایک احمدی طالب علم نماز کا پابند ہے، دوسرے پر واہ نہیں کرتے۔اس احمدی طالب علم سے بہت متاثر تھے۔وہ سیالکوٹ کے ایک گدی نشین کا لڑکا تھا لیکن افسوس ہے کہ بعد میں مرتد ہو گیا۔وہاں مدرسہ کے الہیات کے ایک استاد مولانا آزا دسبحانی سے بھی ملاقات ہوئی۔لکھنو میں علماء سے ملاقات کی۔مولانا عبدالحئی صاحب کے بعد فرنگی محل میں اول درجہ کے جو استاد تھے شاید مولوی عبدالباری نام تھا ان کی تدریس کا کام دیکھا۔محترم میاں صاحب ان کے کام سے بہت خوش ہوئے۔وہ ملاقات میں بھی اچھی طرح پیش آئے تھے وہاں پر ایک انگریزی دان مولوی تھے۔جب قافلہ مدرسہ کے قریب ایک بزرگ کے مزار پر دعا کرنے گیا تو یہ صاحب بھی وہاں آگئے اور قبر پر انہوں نے سجدہ کیا۔قافلہ نے رامپور میں علماء سے ملاقات کی۔پھر دیوبند پہنچے۔باوجود جمعہ کی تعطیل کے خلاف معمول وفد کی خاطر مدرسہ لگایا گیا۔میرے استاد میرے احمدی ہونے کی وجہ سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تھے۔اس لئے اپنی جگہ تدریس کے لئے مولانا انور شاہ صاحب کو مقرر کر بھیجا۔انہوں نے حدیث شریف کا سبق پڑھایا۔میاں صاحب نے پہلے ہی کچھ سوالات انہیں بتائے ہوئے تھے۔مولانا صاحب نے کہا کہ درس کے بعد ان کا جواب