اصحاب احمد (جلد 5) — Page 457
۴۶۲ حضور میرے پاس بھیج دیتے۔میں نے ایک رجسٹر بنا لیا۔اور اس میں ان کو درج کر دیتا۔چنانچہ وہ رجسٹراب بقیہ حاشیہ: میں نے آپ کو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا۔مباہلہ نہیں کہا قسم اور ہے مباہلہ اور ہے۔“ (اہلحدیث ۰۷-۴-۱۹ صفحریم ) (د) مندرجہ بالا ثنائی قرارا بھی سامنے نہیں آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے علم پا کر حضور نے ”مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری کے ساتھ آخری فیصلہ کے عنوان سے ۰۷-۴-۱۵ کو دعائے مباہلہ“ شائع کر دی جس میں اپنی طرف سے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ بچے کی زندگی میں جھوٹے کو ہلاک کر دے اور لکھا کہ مولوی ثناء اللہ اشتہار کو اہلحدیث میں شائع کر کئے جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اہلحدیث ۰۷-۴-۲۶ میں حضور کا یہ اشتہا رشائع کر کے اس کے نیچے لکھا 66 اول اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی اور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کر دیا۔“ میرا مقابلہ تو آپ سے ہے اگر میں مر گیا تو میرے مرنے سے اور لوگوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے۔“ خدا کے رسول چونکہ رحیم و کریم ہوتے ہیں اور ان کی ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص ہلاکت میں نہ پڑے۔مگر اب کیوں آپ میری ہلاکت کی دعا کرتے ہیں۔“ خدا تعالیٰ جھوٹے ، دغا باز ، مفسد اور نا فرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کرلیں۔“ مختصر یہ کہ یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔“ مولوی ثناء اللہ کو اقرار ہے کہ حضور کی طرف سے دعوت مباہلہ ہی تھی چنانچہ وہ لکھتا ہے و کرشن قادیانی نے پندرہ اپریل ۱۹۰۷ء کو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تھا۔(مرقع قادیان جون ۱۹۰۸ ء صفحه ۱۸) (ھ) مولوی ثناء اللہ بعد میں بھی ہمیشہ فرار کرتے رہے۔چنانچہ حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے ۱۹۲۳ء میں ان کے لئے دس ہزار روپیہا انعام رکھا کہ اگر وہ حضرت اقدس کی صفات کے تعلق میں حلف اٹھا کر ایک سال تک زندہ رہے اور حلف اٹھانے کے وقت نصف ہزار روپیہ نقد دے دیا جائے گا۔بلکہ دوصد روپیہ اس شخص کو دیا جائے گا جو مولوی ثناء اللہ صاحب کو حلف اٹھانے پر آمادہ کرے لیکن وہ آمادہ نہ ہوئے۔(احمدیہ پاکٹ بک مرتبہ ملک عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی صفحه ۶۱ ۵ تا ۵۶۸) اسی طرح قریباً ڈیڑھ ماہ تک ۱۹۴۵ء میں ایک غیر احمدی مولوی سراج الدین صاحب گجراتی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو بوعدہ انعام مذکور