اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 417 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 417

۴۲۲ دم کروا کر لے جایا کرتے تھے مگر پھر اس زمانہ میں آپ نے فرمایا کہ چونکہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ دم کی نسبت دعا کو زیادہ پسند فرماتے ہیں اس لئے اب میں لوگوں کو یہی کہتا ہوں کہ دم کی ضرورت نہیں۔میں تمہارے لئے دعا کروں گا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے آپ اس قدر فدائی تھے کہ باوجود استاد ہونے کے جب حضور عصر کی نماز کے بعد کچھ دیر کے لئے مسجد میں ہی تشریف فرما ہوتے تو آپ ہمیشہ سامنے بیٹھ کر رومال ہلاتے رہتے تھے۔جس سے غالباً آپ کی منشاء یہ معلوم ہوتی تھی کہ حضور کوتازہ ہوا پہنچتی رہے۔حضور جب کبھی علالت کی وجہ سے نماز کے لئے مسجد میں تشریف نہ لا سکتے تو عموماً حضور کے ارشاد کے ما تحت آپ ہی امام الصلوۃ ہوا کرتے تھے۔نماز آپ اس قدر بی پڑھاتے تھے کہ مجھے خوب یاد ہے۔ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز کے چار فرضوں پر پورے پنتالیس منٹ صرف ہوئے۔مگر جب بعض بوڑھوں اور معذروں کو تکلیف ہوئی تو حضور نے حضرت مولوی صاحب کو تاکید کی کہ آپ نماز ذرا مختصر کیا کریں۔آپ نے اس کی تعمیل کی مگر چار فرضوں میں پندرہ منٹ تو پھر بھی صرف ہو جایا کرتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میاں! میں تو تسبیحات سبحان ربی العظیم اور سبحان ربی الاعلیٰ تین تین دفعہ ہی پڑھتا ہوں مگر پھر بھی اتنا وقت لگ جاتا ہے پتہ نہیں دوسرے لوگ اتنی جلدی کیسے نماز پڑھ لیتے ہیں۔آپ نے بڑی مصروف زندگی گزاری۔نماز فجر کے بعد آپ عموماً روزانہ بہشتی مقبرہ تشریف لے جا کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر دعا کیا کرتے تھے پھر شدید مصروفیات کی وجہ سے جو جنازے حضور نہیں پڑھا سکتے تھے وہ جنازے بھی آپ ہی پڑھاتے اور عمو مأموصیوں کے جنازوں کے ساتھ بہشتی مقبرہ تک بھی تشریف لے جاتے تھے۔بعض اوقات خطبات جمعہ بھی آپ پڑھتے تھے۔مختلف قسم کی تقاریب میں بھی آپ شامل ہوتے تھے اور جامعہ احمدیہ اور دیگر دفاتر سے فارغ اوقات میں آپ طالب علموں کو زائد وقت دے کر بھی پڑھایا کرتے تھے۔آپ کا حافظہ بھی غضب کا تھا اپنے نہایت ہی چھوٹی عمر کے واقعات جب سناتے تھے تو ہم حیران رہ جاتے تھے۔اپنے شاگردوں سے بڑی ہی محبت سے ملا کرتے تھے۔اگر کسی شاگرد کے متعلق یہ سنتے کہ اس نے کوئی نمایاں دینی خدمت کی ہے تو آپ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھتا۔آپ ہمت و استقلال کے پتلے تھے۔مجھے خوب یاد ہے قادیان کے آخری سالانہ جلسہ (۱۹۴۶ء) کے