اصحاب احمد (جلد 5) — Page 381
۳۸۶ اس زمانہ کی بات ہے کہ واقفین کی تعلیم سے تعلق رکھنے والے کسی امر پر اساتذہ میں اختلاف رائے ہوا اور کئی روز تک وہ امرا سا تذہ اور طلبہ میں زیر بحث رہا۔حضرت مولوی صاحب بھی اکثر اپنی رائے کا اظہار فرماتے اور اس کے دلائل و وجوہ بڑے زور دار الفاظ میں بیان کرتے۔جب وہ معاملہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش ہوا تو حضور نے جو فیصلہ فرمایا وہ حضرت مولوی صاحب کی رائے کے مطابق نہ تھا۔حضور کی رائے اور فیصلہ کا علم ہوتے ہی حضرت مولوی صاحب اس پر بالکل خاموش ہو گئے۔اور اس کے بعد اس معاملہ کے متعلق اپنی رائے کا بھول کر بھی کبھی ذکر نہیں کیا۔حضور کے فیصلہ پر تنقید یا تبصرہ تو کجا اپنے موقف کی تطبیق اور تو جیہہ کے طور پر یا اعتذار کے رنگ میں بھی کوئی کلمہ زبان پر نہ لائے بلکہ سمعا وطاعة کا کامل نمونہ پیش کیا اور اپنی رائے کو کلینتہ چھوڑ کر حضور کے ارشاد کے مطابق بشاشت سے عملدرآمد شروع کر دیا۔جو دوست حضرت مولوی صاحب سے تعارف رکھتے ہیں اور آپ کی خود داری اور خوداعتمادی والی طبیعت سے واقف ہیں وہی اس واقعہ کی اہمیت اور حضرت مولوی صاحب کی انتہائی بے نفسی کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں۔طالب علموں کی دلی خیر خواہی حضرت مولوی صاحب جامعہ احمدیہ میں مولوی فاضل کلاس کو منطق وفلسفہ پڑھایا کرتے تھے۔جامعہ کے مقررہ وقت میں عموما نصاب ختم نہیں ہوتا تھا۔اس لئے آپ جلسہ سالانہ کے بعد تعلیمی سال کے آخر تک صبح سویرے اپنے مکان پر بھی درس دیتے۔اکثر ایسا ہوتا کہ تقریر کی روانی میں آپ کو وقت کا خیال نہ رہتا لڑکوں کو گھر یا ہاسٹل میں جا کر کھانا کھانے اور پھر تیاری کر کے جامعہ میں حاضر ہونے کا فکر ہوتا۔زیادہ وقت ہو جانے پر بعض لڑکے آپس میں سرگوشیاں کرنے لگتے کہ حضرت مولوی صاحب کو توجہ دلائی جائے۔لیکن آپ کی تقریر کے دوران میں بات کرنے کی جرات کرنا مشکل تھا۔ایک دفعہ جب کچھ زیادہ وقت ہو گیا تو لڑ کے ایک دوسرے کو اشارے کرنے لگ گئے۔ایک لڑکے نے مجھ سے وقت پوچھا ( سوء اتفاق سے صرف میرے پاس گھڑی تھی ) میں نے آپ کے ادب اور ڈر کی وجہ سے اسے جواب دینے کی بجائے گھڑی جیب سے نکال کر اس کی طرف کر دی۔آپ کی نظر پڑ گئی۔آپ نے سمجھا کہ میں نے اسے گھڑی اس لئے دکھلائی ہے کہ وہ آپ کو درس ختم کرنے کے لئے کہے۔آپ سخت ناراض ہو گئے اور مجھے کلاس سے نکل جانے کا حکم دیا۔اس وقت آپ کے مزاج کی برہمی دیکھ کر عذر خواہی یا صفائی پیش کرنا میں نے نامناسب خیال کیا۔اور اسی میں خیر سمجھی کہ کلاس سے چلا جاؤں اس کے بعد دو تین دن خفت کے احساس سے میں کلاس میں حاضر نہ ہوا۔اور حضرت مولوی صاحب