اصحاب احمد (جلد 5) — Page 329
۳۳۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام بیان کرتے تو آپ کی طبیعت میں ایک خاص قسم کا جوش پیدا ہو جا تا تھا یہاں تک کہ ان کی آخری ملاقات جس کو آٹھ دس دن ہوئے ہیں مجھ سے اس سلسلہ میں ہوئی۔مجھے اطلاع دی گئی کہ مولوی صاحب ملنے کے لئے آئے ہیں میں نے اوپر بلوالیا۔تو مولوی صاحب نے مجھے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں کمی کی جاتی ہے اور آپ کو صرف مسیح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے حالانکہ مہدی کی شان مسیح کی شان سے کہیں بلند ہے جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ذکر کئی جگہ اپنی کتب میں کیا ہے۔صرف مسیح موعود لکھنے کا کہیں یہ نتیجہ نہ ہو کہ آہستہ آہستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حقیقی مقام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔میں نے مولوی صاحب کو کہا کہ آپ یہ بات مجھے لکھ کر بھیج دیں میں اس پر غور کروں گا چنانچہ اس کے تیسرے یا چوتھے دن مولوی صاحب کی طرف سے ایک تحریر اسی مضمون کی مجھے مل گئی۔گویا مولوی صاحب کو اپنی وفات کے قریب بھی یہی فکر رہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں کہیں کمی نہ ہو جائے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے میں مولوی صاحب کا شاگر درہا ہوں۔عمر کے لحاظ سے مولوی صاحب مجھ سے بہت بڑے تھے اور میں ان سے بہت چھوٹا تھا لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ میرے استاد تھے باوجود اس کے کہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے تھے۔باوجود اسکے کہ وہ مدرسی تعلیم میں بہت زیادہ دسترس رکھتے تھے میں نے اکثر دیکھا کہ مولوی صاحب کا غذ پنسل لے کر بیٹھتے تھے اور باقاعدہ میرا لیکچر نوٹ کرتے رہتے تھے۔ان میں محنت کی عادت اتنی تھی کہ میں نے جماعت کے اور کسی شخص میں نہیں دیکھی۔اگر مجھے کسی کی محنت پر رشک آتا تھا تو وہ مولوی صاحب ہی تھے بسا اوقات میں بیماری کی وجہ سے باہر نماز کے لئے نہیں آسکتا تھا اور اندر بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع کر دیتا تھا لیکن مسجد سے مولوی صاحب کی قرآت کی آواز میرے کانوں میں آتی اور میرا نفس مجھے ملامت کرتا کہ میں جو عمر میں ان سے بہت چھوٹا ہوں میں تو گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہوں اور یہ اسی سال کا بڑھا مسجد میں نماز پڑھا رہا ہے۔میرے زمانہ خلافت میں میری جگہ اکثر مولوی صاحب ہی نماز پڑھاتے تھے۔صرف آخری سال سے میں نے ان کو نماز پڑھانے سے روک دیا تھا۔کیونکہ گرمی کی شدت کی وجہ سے وہ بعض دفعہ بے ہوش ہو جاتے تھے اور مقتدیوں کی نماز خراب ہو جاتی تھی اس لئے میں نے ان کو جبر ہٹایا ورنہ وہ کام سے ہٹنا نہیں چاہتے تھے چنانچہ سینکڑوں آدمیوں نے دیکھا ہو گا کہ وہ روزانہ بلاناغہ مجلس عرفان میں شامل ہوتے تھے۔حتیٰ کہ وفات سے صرف دورات پہلے وہ مجلس میں آئے اور بیٹھے رہے۔ان کو مجلس میں ہی بیہوشی شروع ہوگئی اور میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب بیٹھے ہوئے بینچ پر جھکے جارہے ہیں۔میں نے ان کے بعض شاگردوں سے کہا مولوی صاحب بیمار معلوم ہوتے ہیں۔ان کا خیال رکھنا۔اسی دن سے آپ پر بیہوشی طاری ہوئی اور آپ تیسرے دن فوت ہو گئے۔