اصحاب احمد (جلد 5) — Page 243
۲۴۷ مولوی محمد علی صاحب سیکرٹری صدرا انجمن احمد یہ وائیڈ میٹر یو یوتحریر کرتے ہیں :- ی تفسیر ایک اعلی پایہ کی علمی تفسیر ہے اہل علم اور کم علم اس سے برابر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب علاوہ حضرت خلیفہ اسیح کے نکات درس قرآن کو شامل کرنے کے خود بھی نہایت خوبی سے اور تفاسیر پر وسیع نظر رکھ کر تفسیر لکھتے ہیں ( خریداری کے لئے ) انجمنوں کے سیکرٹری اپنی انجمنوں کے ممبران کو توجہ دلا دیں۔حضرت مولانا غلام حسن صاحب پشاوری کے سامنے مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی وفات سے آٹھ روز پہلے مولوی سرور شاہ صاحب کی تفسیر کے باے میں بتایا تھا کہ :- ” جناب جو قد راس تفسیر کی میری نگاہ میں ہے وہ اور کسی کی نظر میں نہیں ہوسکتی۔کیونکہ جب میں نے انگریزی ترجمہ کے لئے نوٹ لکھنے چاہے تو میں نے بہت تفسیروں " ریویو آف ریلیجنز بابت مارچ ۱۹۱۱ ء ص ۱۱۶۔اسی پر چہ میں لکھا ہے :۔بہت مدت سے میرا دل اس بات کو چاہتا تھا کہ ریویو آف ریلیجنز کا ایک حصہ قرآن شریف کی ایک تفسیر عام فہم اردو زبان میں ہوتا۔کتاب الہی کا سچا علم اور تعلیم ہمارے احباب میں ترقی کرے مگر حالات اجازت نہ دیتے تھے۔۔۔تھوڑے عرصہ سے رسالہ تعلیم الاسلام کا نکالنا تجویز ہوا۔جس کی اہم غرض قرآن شریف کی ایک تفسیر کا مہیا کرنا تھا۔اس رسالہ کو شروع ہوئے نو ماہ گذر چکے ہیں اور اس عرصہ میں تین سو سے زائد صفحات قرآن شریف کی تفسیر کے اس میں نکل چکے ہیں۔میں نے جہاں تک اس تفسیر کو دیکھا ہے نہایت بیش قیمت پایا ہے اور حضرت مولوی صاحب ( یعنی حضرت مولوی نور الدین صاحب۔مؤلف نے بھی اکثر اوقات اس کی بہت تعریف کی ہے۔عام فہم ہے اور الفاظ اور ان کے معانی کی پوری تشریح کی جاتی ہے۔احمدی قوم کی یہ ایک بڑی بھاری ضرورت ہے جو اس رنگ میں پوری ہوئی۔اس وجہ سے کہ جماعت کو اس رسالہ کی اغراض اور اس کے مضامین سے کما حقہ، آگا ہی نہ ہوئی۔اس کی اشاعت بھی اب تک محدود ہی۔۔۔اس تفسیر میں اس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے کہ جو جو اعتراضات قرآن شریف پر کئے گئے ہیں ان کا جواب بھی ساتھ ساتھ دیا جاوے گا۔اس لئے کسی قدر لمبی بھی ہو جاوے گی۔“ ۲۱۲ یہ بھی مرقوم ہے کہ رسالہ ” تعلیم الاسلام کی قیمت صرف ڈیڑھ روپیہ سالانہ تھی۔اب ریویو آف ریلیجنز کے پرچوں میں بیس بیس صفحات میں بطور ضمیمہ شائع کرنے کی تجویز ہوئی ہے۔احباب استفادہ کریں ضمیمہ اور ریویوالگ الگ منگوائے جاسکتے ہیں۔گویا بمشکل لاگت ہی وصول ہوتی تھی۔اس سے ظاہر ہے کہ یہ تفسیر کس 66 قد مستند بھی جاتی تھی۔اور اسے اشاعت قرآن کا ذریعہ بنا کر خریداروں کو حد درجہ سہولت بہم پہنچائی گئی تھی۔