اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 197 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 197

۲۰۱ احمد صاحب ماریشس بطور مبلغ روانہ ہونے والے تھے۔ان کے الوداع اور جامعہ احمدیہ کے افتتاح کے متعلق طلباء جامعہ نے سپاسنامہ پڑھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ شریک تھے۔اس سے قبل مٹھائی اور ولایتی پانی سے دعوت کی گئی۔۱۴۴ اس سے قبل حضور ہائی سکول کی دعوت چائے میں شرکت فرما چکے تھے جو مولوی فرزند علی صاحب ، مولوی مطیع الرحمن صاحب بنگالی ، حافظ جمال احمد صاحب اور میاں محمد یوسف صاحب جہلمی کو ان کے تبلیغ کے لئے بیرونی ممالک میں جانے کی تقریب پر دی گئی تھی۔حضور نے فرمایا:- وو آج کا دن شاید ہمارے لئے کوئی خصوصیت رکھتا ہے کہ اس دن بہت سی دعوتیں جمع ہو گئی ہیں۔میرا خیال تھا کہ ہم اس جگہ اس لئے آ رہے ہیں کہ دعا کر کے جامعہ احمدیہ کا افتتاح کریں لیکن سامنے کے موڈ سے مڑتے ہی معلوم ہو گیا کہ یہاں بھی نفسانی مجاہدہ ہمارا انتظار کر رہا ہے اور ابھی یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔شام کو پھر ایک دعوت میں مدعو ہیں اور ممکن ہے شام سے پہلے پہلے کوئی اور دعوت بھی انتظار کر رہی ہو۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دن ہمارے لئے اکل و شرب کا دن بن گیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن کی یہی تعریف فرمائی ہے۔سو جس طرح حدا تعالیٰ نے اس دن میں بغیر اس کے کہ ہم امادہ اور نیت کر کے پہلے سے انتظام کرتے خود اپنی طرف سے ہی ایسے انتظام کر دیئے ہیں کہ اس دن کو ہمارے لئے عید کی طرح بنا دیا ہے۔اسی طرح ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ واقع میں ہمارے لئے اسے عید بنا دے۔جب خدا تعالیٰ نے اس دن میں عید سے ظاہری مشابہت پیدا کر دی ہے اور بغیر کسی انسانی ارادہ کے دخل کے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔تو یہ اس کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی ایسی چیز دے جو کام کی نہ ہو۔ہم اس کی شان کو مدنظر رکھ کر یہی امید رکھتے اور اس سے یہی التجا کرتے ہیں کہ اس ظاہری عید کو حقیقی عید بنا دے اور مردوں میں روح پھونک دے اس جسم میں سانس ڈال دے۔اس بے بس مجسمہ کو چلتی پھرتی چیز بنادے تا کہ جس طرح ظاہری طور پر اس دن نے عید سے حصہ پایا ہے۔اسی طرح باطن میں بھی عید کی خصوصیات حاصل کرے۔ہمارے جو مبلغ باہر جا رہے ہیں ان کے متعلق تو میں پہلے کچھ نصائح بیان کر چکا